ہفتہ, فروری 21, 2026
ہومقائد کے مواقفمعاشی انصاف سے سماجی انصاف وابستہ،ظالمانہ اقتصادی نظام سب سے بڑی رکاوٹ،...

معاشی انصاف سے سماجی انصاف وابستہ،ظالمانہ اقتصادی نظام سب سے بڑی رکاوٹ، علامہ سید ساجد علی نقوی

معاشی انصاف سے سماجی انصاف وابستہ،ظالمانہ اقتصادی نظام سب سے بڑی رکاوٹ، علامہ سید ساجد علی نقوی
راولپنڈی /اسلام آباد 20 فروری 2026 : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں سماجی انصاف معاشی انصاف کے ساتھ ہی میسر ہے، دنیا کا اقتصادی نظام، سیاسی نظام انتہائی ظالمانہ شکل اختیار کرچکاہے جس کے باعث اقوام متحدہ کے سماجی انصاف کے وہ خواب شرمندئہ تعبیر نہیں ہوسکے جن کی جانب اس روز کی مناسبت سے متوجہ کیا جاتاہے، ظالمانہ اقتصادی و سیاسی نظام کی سب سے واضح جھلک بورڈ آف پیس،سامراجی لہجہ جبکہ بدترین مثال غزہ ، مغربی کنارہ، خان یونس کی آبادیوں کیساتھ شام و لبنان ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے عالمی یوم سماجی انصاف اور بورڈ آف پیس کی میٹنگ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ 20فروری کو عالمی یوم سماجی انصاف پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اقوام عالم کے اپنے 2009ء کے اقدام ”سوشل پروٹیکشن فلور انیشیٹو 2009 ، پوری دنیا کیلئے مساوی بنیادی سماجی ضمانتوں کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ ترجیحات اور حل کو فروغ دینے کے اصول، سماجی انصاف انصاف، مساوات، تنوع کے احترام، سماجی تحفظ تک رسائی، اور کام کی جگہ سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں انسانی حقوق کے اطلاق کی اقدار پر مبنی”کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ صرف ایک دہائی کے عرصے میں دنیا پر کونسا ظلم و جبر سامراج اور عالمی معاشی ظالمانہ سیاسی و اقتصادی نظام نے نہیں ڈھایا کہ جس کو اقوام عالم سمیت دنیا روک پائی ہو؟۔اسی عرصہ میں مسئلہ عراق، افغانستان، روہنگیا، سوڈان اور تازہ ترین غزہ، مغربی کنارہ، خان یونس، مقبوضہ بیت المقدس، لبنان و شام ہیں تو ایسے حالات میں کیسے سماجی انصاف کا بول بالا ہوسکتاہے؟سماجی انصاف میں ایک عام آدمی کو بنیادی انسانی حقوق جن میں ”محفوظ زندگی، صحت، تعلیم، بہتر روزگار کے ساتھ ثقافت، روایات، مذہبی و سماجی آزادیاں ، آزادی اظہار رائے”فراہم کی جانی تھیں وہ ایسے ماحول میں کیونکر حاصل ہوسکیں گی۔انہوںنے زور دیتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کو اپنی رٹ بحال کرنے کیلئے سماجی انصاف کیلئے پہلے معاشی انصاف کے حوالے سے میکنزم متعارف کرانا ہوگا اور طاقت ورریاستوں کے مذموم عزائم کے راستے میں بڑ ی رکاوٹ ڈالنے کیلئے انسانی بقاء کیلئے سوچنے والی قوتوں کے ذریعے کھڑا ہونا ہوگاتبھی دنیا میں سماجی مساوت و انصاف کا خواب شرمندئہ تعبیر ہوسکے گا۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین