اتوار, اگست 23, 2026
ہومقائد کے مواقفمذہب انسانی وقار کی بلندی ،فلاح اور باہمی مسادات کے آفاقی پیغام...

مذہب انسانی وقار کی بلندی ،فلاح اور باہمی مسادات کے آفاقی پیغام کا نام ،قائد ملت جعفریہ پاکستان

مذہب انسانی وقار کی بلندی ،فلاح اور باہمی مسادات کے آفاقی پیغام کا نام ،قائد ملت جعفریہ پاکستان
جدید دنیا میں نئی غلامی کے پیمانے نافذ ،عام افراد کے بعد ریاستیںاور اب انسانی ذہن کو ڈیجیٹل انداز سے مفلوج کرکے اس کے شعور پرحملے شروع ہوچکے ،علامہ سید ساجد علی نقوی کا بین الاقوامی ایام پر پیغام
اسلام آبا د22 اگست 2026ء : مذہبی اعتقادات یا بنیادی عقائد نہیں ،تشریحات مسائل پیدا کرتی ہیں، انتہاءپسندی کی گنجائش کسی بھی معاشرے میں کسی بھی شکل میں نہیں دی جاسکتی،انسان کو آزاد پیدا کیا گیاہے مگر ہر دور میں ایک نئے انداز میں انسان کو غلام بنایاگیا اور بنایاجارہاہے، اب فرد کی جگہ اس سے بھی سخت قوموں اورریاستوں کی غلامی نے لے رکھی ہے تو دوسری طرف انسانی ذہن کو ڈیجیٹل انداز سے مفلوج کیا جارہاہے اور اس کے شعور پر حملہ کرکے اس سے سوچنے اور جینے کا حق تک چھینا جارہاہے ، دین الٰہی بہترین راستہ جس نے نہ صرف غلامی کی مذمت، اس کے خاتمے کے جواز کا راستہ فراہم کیا بلکہ انسانیت کی تا قیامت رہنمائی بھی فرمائی۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے یکے بعددیگرے ” دہشت گردی سے متاثرہ افراد، مذہبی اعتقاد کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بننے والے متاثرین اور غلام تجارت کے خاتمے کا دن “ بارے عالمی ایام پر اپنے پیغام میں کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ مذہبی اعتقادات یا بنیادی عقائد ویسے نہیں ہوتے جس طرح ان کی تشریحات و تعبیرات کرکے اور عملی میدان میں اپنے انداز میں نفاذ کی کوشش کی جاتی ہے اور بنیادی عقائد کی تشریح و توجیہ مختلف انداز میں ہونے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ شدت اس حد تک ابھر آتی ہے کہ مخالف نظریہ رکھنے والا نشانہ بنتا ہے اور یہی عمل جسے آج دنیا ”انتہا ءپسندی“کا نام دیتی ہے ،عمل میں آتاہے اور اسی سے دہشت گردی جنم لیتی ہے جس کی مہذب دنیا میں کوئی گنجائش نہیں، انسانی معاشرے کی بنیاد باہمی مساوات اور بنیادی حقوق پر سب کا حق کے اہم ترین بیانیہ پر ہے مگر افسوس پاکستان میں اسی سوچ کے سبب فتوے دیئے گئے پھر ایک عرصہ تک تکفیر کا بازار گرم کیاگیا جس سے تشدد نے جنم لیا اور سینکڑوں خاندان اور ہزاروں لوگ اس سے متاثر ہوئے ۔
انہوں نے غلام تجارت کے خاتمے بارے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہاکہ ہر دور میں اسے ایک نئے انداز میں انسان کو غلامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، فرد کی غلامی سے سخت قوموں اور ریاستوں کی غلامی نے لے لی ہے، جو پہلے درجے سے کہیں زیادہ سخت ہے اور اب ایک نئے ڈیجیٹل انداز میں انسانی ذہن کو مفلوج کرکے اس کے شعور پر حملے شروع ہوچکے، اس کے سوچنے، سمجھنے اور جینے تک کا حق خاموشی سے چھن چکا، انسانی رویوں، انسانی قدروں کو جب تک بحال نہیں کیا جائےگا ان نئے چیلنجز سے آنیوالی نسلو ں کا تحفظ ممکن نہیں۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین