قائد ملت جعفریہ پاکستان کی سیلابی ریلو ں سے ہونیوالے نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہار، بھارتی آبی جارحیت کی مذمت
وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھائیں، کارکنان، رضا کار بھی آگے آئیں، ساجد نقوی
موسمیاتی تبدیلیوں، سیلابی صورتحال کے باعث گلگت بلتستان، خیبرپختونخواہ، پنجاب کے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے
راولپنڈی /اسلام آباد28 اگست 2025ء : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی پورے ملک خصوصاً پنجاب میں سیلابی ریلوں سے ہونیوالے نقصانات پر اظہار افسوس اور بھارتی آبی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت، وفاقی و صوبائی حکومتوں کو عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے اور زیادہ سے زیادہ ریسکیو و ریلیف دینے کا بھی مطالبہ، قائد ملت جعفریہ پاکستان کی کا رضا کاروں سے بھی ہم وطنوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے خدمات انجام دینے کی ہدایات ۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ملک بھر میں ہونیوالی بارشوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور سیلاب سے ہونیوالی تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو عوام کے جان و مال کے تحفظ، زیادہ سے زیادہ ریسکیو و ریلیف کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ کارکنان و رضا کاروں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ جس حد تک ممکن ہو عوام کے جا ن و مال کے تحفظ کیلئے میدان عمل میں موجود رہیں اور اس مشکل صورتحال میں اپنے ہم وطن بھائیوں بہنوں کے تحفظ کیلئے خدمات انجام دیں ۔انہوںنے مزید کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہی جس کیفیت میں ہورہی ہے اور جس انداز سے بھارت نے پہلے پانی کو روک کر یکدم چھوڑا یہ بھی انتہائی تشویشناک اور انتہائی قابل مذمت ہے اور سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی زندہ مثال ہے البتہ پاکستان کو اس قسم کی آبی جارحیت سے نمٹنے کیلئے میگاپراجیکٹس پر عملی اقدامات کرنا ہونگے بلکہ جلد از جلد کم ترین وقت میں انہیں پائیہ تکمیل تک پہنچانا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ آبادی کو نہ صرف محفوظ بنایا جاسکے بلکہ آبی وسائل کو بڑھا کر دشمن کے مذموم مقاصد کو ناکام بنایا جاسکے۔انہوںنے مزید کہاکہ پنجاب کے بعد سیلاب سے سندھ میں بھی خدشات ہیں لہٰذا ہنگامی اقدامات کے ذریعے صوبہ سندھ کے نشیبی علاقوں میں عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں و سیلابی صورتحال کے باعث گلگت بلتستان، خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے تما م متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جائے ۔