اتوار, جنوری 25, 2026
ہومقائد کے مواقفامام محمد باقر نے مشکلات و مصائب کے باوجود امامت و پیشوائی...

امام محمد باقر نے مشکلات و مصائب کے باوجود امامت و پیشوائی کے فرائض نبھائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امام پنجم حضرت امام محمد باقر کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ تخصصی انداز سے شاگردوں کی تربیت کی سوچ کے بانی کا نام امام محمد باقر ہے جس کے ذریعہ آپ نے دین اسلام کی شناخت و ترویج کا بیڑا اٹھایا اور سینکڑوں کی تعداد میں شاگردان تیار کئے ‘ چنانچہ اس دور کے دیگر مذاہب کے بھی بڑے بڑے علماء یہ کہتے دکھائی دیئے کہ ”جو بھی محمد باقر تعلیم دے وہ حق اور صحیح ہے” امام جعفر صادق کو جو پندو نصائح نے تاریخ کا ایک گرانقدر سرمایہ اور خزانہ ہیں’ ایک موقع پر فرمایا کہ ”اے جعفر خالق کائنات نے ہم اولاد پیغمبر ۖ کو علم کے لئے چن لیا ہے جو علم ہمارے خاندان کی میراث ہے’ اس علم کو امانت سمجھ کر انسانوں تک پہنچانا صدیوں تک انسان یہ جان لے کہ اس کی خلقت کا سبب کیا ہے؟” آپ کی مسلسل اور پیہم جدوجہد رہتی دنیا تک کی انسانیت کی رشد و ہدایت کا سامان فراہم کرتی رہے گی۔آئمہ کی زندگی اخروی امور کی طرف متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ دنیاوی امور کو بھی رضای پروردگارکیلئے انجام دینے کی ترغیب بھی دیتی ہے بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ تلاش معاش جو بہترین زندگی کیلئے جدوجہد کی علامت ہے اچھی بات نہیں جبکہ امام باقر کی حیات طیبہ میں کسب حلال کے واقعات ملتے ہیں محمد بن مکدر نقل کرتے ہیںکہ میںنے ایک دن امام کو اپنے بھاری بدن کے ساتھ دو سیاہ فام غلاموں کے ہمراہ کام میں مشغول دیکھا دل میں سوچا قریش کا ایک بزرگ اس حالت میں حصول دنیا کی کوشش میں مشغول ہے میںنے امام سے عرض کی آپ کو اگر اس حالت میںموت آجائے تو کیا کریں گے فرمایا اگر اسی حالت میں میری موت آجائے تو میں دنیا سے اطاعت الہٰی کی حالت میں رخصت ہوں گا میں کام کرکے اپنے اہل و عیال کوتمہارا اور دوسرے لوگوں کا محتاج بننے سے محفوظ رکھتا ہوں (اصول کافی جلد 5صفحہ 73)۔انہوںنے کہا کہ ائمہ اہل بیت کے اعلی و ارفع مشن اور پاکیزہ اہداف و مقاصد میں کاملاً یکسوئی پائی جاتی تھی البتہ ان مقاصد کے حصول کے راستے اپنے اپنے دور کے تقاضوں کے لحاظ سے مختلف تھے’ کسی امام نے راہ صلح ‘ کسی نے قیام’ کسی نے ثورہ الدموع و راہ دعا تو کسی نے مسند علم پر بیٹھ کر علوم و فنون کو شگافتہ کرکے باقر العلوم کے لقب کو اپنے ساتھ خاص کیا ہے۔امام محمد باقر کی منفرد فضیلت یہ بھی ہے کہ سلسلہ امامت وہ نجیب الطرفین امام ہیں جن کے والد بھی امام’ نانا بھی امام ‘ دادا بھی امام اور بیٹا بھی امام ہیں۔اسی طرح وہ واقعہ کربلا کے چشم دید گواہ بھی بنے۔علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا ہے کہ پیغمبر اکرمۖ نے اپنے صحابی حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری کو فرمایا کہ ”تم میرے پانچویں جانشین کا دیدار کرو گے جس کا نام میرے نام پہ ہوگا اور وہ علوم کو شگافتہ کرے گا اس کو میرا سلام کہنا” اسی طرح حضرت امام محمد باقر نے اپنے اخلاق و کردار کے ذریعہ اپنی پاکیزہ جد امجد کے حقیقی وارث ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔علامہ ساجد نقوی کہتے ہیں کہ انحرافی گروہوں کے خلاف جہد مسلسل اور اپنے اصولوں پر ٹھوس اور دو ٹوک موقف امام محمد باقر کا خاصا تھا چنانچہ اس راستے میں مشکلات و مصائب کی پرواہ کئے بغیر پیغام حق بلند کرتے رہے۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین