اتوار, جنوری 25, 2026
ہومقائد کے مواقف2025 سامراجی و صہیونی مظالم کی تلخ یادیں چھوڑ گیا، سال نو...

2025 سامراجی و صہیونی مظالم کی تلخ یادیں چھوڑ گیا، سال نو خود احتسابی اور عدل کے قیام کا متقاضی ہے: علامہ سید ساجد علی نقوی

2025ء سامراجی صہیونی مظالم کیساتھ رخصت ہوا،علامہ ساجدنقوی
سال نو عیسوی کا آغاز خود احتسابی او ر غلطیوں کو نہ دہرانے کے عہد کیساتھ کیا جائے،قائد ملت جعفریہ
گزشتہ سال کے ظلم و جبر کی داستانیں غزہ سمیت ارض فلسطین سنا رہی ہے وہ دن دور نہیں جب ظلم کا خاتمہ اور عدل کا نظام قائم ہوگا، سال نو پر پیغام
راولپنڈی /اسلام آباد یکم جنوری2026 : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں سال نو عیسوی کا آغاز خود احتسابی اورغلطیوں کو نہ دہرانے کے عہد کیساتھ کیا جائے، 2025ء گزرچکا مگر آج بھی گزشتہ سال کے ظلم و جبر کی داستانیں غزہ سمیت ارض فلسطین سنا رہی ہے، مظلوم فلسطینیوں ، کشمیریوں کا ایک اور سال جبر و ظلم و قبضے کی نذر ہوا،لبنان، شام سمیت خطے کی صورتحال پر امت مسلمہ کیلئے گزشتہ سال بھی سوگوار رہا، مگر وہ دن دور نہیں جب ظلم کا خاتمہ اور عدل کا نظام قائم ہوگا، پاکستان کے عوام بھی لاقانونیت، افراتفری،مہنگائی و بے روزگاری سے تنگ ،کرم پارا چنار سمیت پاکستانی عوام آج بھی پائیدار امن و تحفظ کی آرزو مند، صاحبان اقتدار اپنے قول و فعل سے ثابت کریں کہ آنیوالاسال ارض وطن کیلئے داخلی و معاشی،معاشرتی اور اخلاقی استحکام کا باعث ہوگا۔سال نو عیسوی 2026ء کے آغاز پر اپنے پیغام قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہ سال گزشتہ سے پیوستہ سال ارض پاک کے باسیوں کو عدم تحفظ’ بے چارگی’ غربت’ پسماندگی اور ذہنی اذیتوں کے سوا کچھ نہ دے پایاجبکہ ایک سال اور گزر گیا مگر نظام درست ہوا نہ عام آدمی کے مسائل حل ہوئے بلکہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کے اثرات موجود رہے جوآج بھی پارا چنار، کرم کی صورتحال سے واضح ہیں اور عوام آج بھی امن و استحکام کے متلاشی ہیں ۔سال نو کے آغاز پرعام آدمی بھی یہ کہنے پر مجبور ہے کہ کب عوام دوست پالیسیاں مرتب کی جائیں گی؟عوام کی امیدوں کی بارآوری ‘ ان کی مشکلات کے خاتمے اور ملک کی ترقی و خوشحالی کا سورج طلوع ہوگا؟ اورکب عوام کو مساوی اور یکساں حقوق کی فراہمی کے ساتھ انصاف میسر ہوگا ؟علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ رسم دنیا ہے کہ جب نئے سال کا آغاز ہوتا ہے تو حکمران’ سیاسی جماعتوں کے سربراہان ‘ تمام سماجی و انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذمہ داران اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے متعلق افراد تجدید عہد کے بیانات جاری کرتے ہیں کہ گذشتہ سال ہونے والی کوتاہیوں اور غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے آئندہ سال احتیاط کریں گے لیکن جب سال کا اختتام ہوتا ہے تو صورت حال پہلے سے بھی بدتر ہوتی ہے، صاحبان اقتدار اپنے قول و فعل سے ثابت کریں کہ آنیوالاسال ارض وطن کیلئے داخلی و معاشی،معاشرتی اور اخلاقی استحکام کا باعث ہوگا۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین