ائمہ اطہار کی سیرت و کردار کو اپنانے کی ضرورت ہے ، علامہ ساجد نقوی
امام حضرت امام موسی کاظم نے جلاوطنی اور اسارت جیسے کٹھن اور مشکل مراحل میں بھی عزم و استقلال اور جرات و بہادری سے مصائب کا مقابلہ کیا، قائد ملت جعفریہ
امام موسی کاظم کی35 سالوں پر محیط دور امامت میں زندگی کے ہر میدان میں آپ کی مسلسل رہنمائی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، یوم شہادت پرپیغام
راولپنڈی/اسلام آباد 14جنوری 2026( )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ساتویں امام حضرت امام موسی کاظم کے یوم شہادت (25 رجب المرجب) پر اپنے پیغام میں کہا کہ 35 سالوں پر محیط دور امامت میں زندگی کے ہر میدان میں آپ کی مسلسل رہنمائی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ امام موسی کاظم نے اپنے جد امجد پیغمبر گرامی کے عمل و کردار کو اپناتے ہوئے جب یہ محسوس کیا کہ اس وقت کی منحرف قوتیں دینی عقائد و نظریات کو مسخ کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں تو آپ نے انحراف کے خلاف صدائے حق بلند کرنے میں ذرا بھی تامل سے کام نہ لیا چنانچہ آپ کو اس عمل کی پاداش میں کئی سال قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار کیا گیا اور بالاخر امام برحق کی شہادت بھی انہی تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے ہوئی۔انہوں نے کہا کہ امام موسی ابن جعفر کی امامت کا آغاز ایک مشکل ترین زمانے میں ہوا جب وہ اپنے والد گرامی حضرت امام جعفر صادق کی شہادت کے بعد منصب امامت پر فائز ہوئے تو اس وقت صورتحال یہ تھی کہ بنو عباس اپنی خلافت کی ابتدا میں پیدا ہونے والے داخلی اختلافات اور جنگوں سے فراغت پاچکے تھے اور اپنے مخالفین کی سختی سے سرکوبی کرنے کے بعد انہیں خاموش کررہے تھے۔ چنانچہ جلاوطنی اور اسارت جیسے کٹھن اور مشکل مراحل میں بھی امام نے عزم و استقلال اور جرات و بہادری سے مصائب کا مقابلہ کیا۔ انہیں کبھی جلاوطنی، کبھی اسیری اور کبھی روپوشی جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑے چنانچہ روایت کے مطابق ”ایک مدت تک امام موسی کاظم مدینہ میں موجود ہی نہ تھے بلکہ شام کے گائوں و دیہاتوں میں روپوشی کے عالم میں گزر بسر کرتے رہے،، مزید برآں مورخین کو تاریخ اسلام قلمبند کرتے وقت حضرت کے حالات زندگی کے جس پہلو پر زیادہ دقت سے توجہ دینی چاہیے تھی وہ آپ کی زندگی کا عظیم اورطویل المدت اسیری کا پہلو ہے جس کے پیچھے طویل اور صبر آزما جدوجہد کارفرما تھی۔قائد ملت جعفریہ پاکستان نے ائمہ اطہار کی سیرت و کردار اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ حق و صداقت کی ترویج کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والی عظیم المرتبت شخصیت کی زہر سے شہادت کے بعد بھی بدی اور جبر کی قوتیں خائف نظر آئیں چنانچہ ظالم حکمران آپ کے جنازے اور قبر مطہر سے خوفزدہ تھے یہی وجہ ہے کہ جب قید خانے سے آپ کا جنازہ باہر نکالا جارہا تھا تو حکومتی مشینری یہ اعلان کررہی تھی کہ حکومت وقت سے بغاوت کرنے والے کا جنازہ ہے تاکہ آپ کی شخصیت اور کردار کو لوگوں کی نظرو ں میں داغدار کیا جاسکے لیکن اس میں ناکام ہوئے، آپ کا مزار مقدس بغداد کاظمیہ( کاظمین) میں آج بھی مرجع خلائق ہے۔


