اتوار, جنوری 25, 2026
ہومقائد کے مواقفقائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا 28 رجب...

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا 28 رجب کی مناسبت سے اہم پیغام

امام حسین نے پوری انسانیت کی فلاح وصلاح کی بات کی، قائد ملت جعفریہ پاکستان
امام عالی مقام کی بے مثال جدوجہد اور تحریک سے آج بھی دنیائے عالم میں آزادی و حریت کی تحریکیں استفادہ کررہی ہیں،28رجب کی مناسبت سے پیغام
راولپنڈی/ اسلام آباد 17 جنوری 2026 ء : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا قافلہ حسینی کی 28رجب المرجب کو مدینے سے روانگی کی مناسبت سے کہنا ہے کہ نواسہ رسول ۖ کی جدوجہد کے۔پہلے مرحلے پر اسلام کے آفاقی اور عادلانہ نظام کی سربلندی کے لیے یزید کی غیر قانونی خلافت پر بیعت سے انکار کیا دوسرے مرحلے پر حق کی سربلندی کیلئے آبائو اجداد کا وطن مدینہ چھوڑ دیا حق کی سربلندی کیلئے ایسی جدوجہد بہت بڑی قربانی ہے ۔
علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا ہے کہ 28 رجب 60 ہجری کی شب امام عالی مقام نے اپنے خاندان کے اکثر افراد اور بعض انصار کے ساتھ اپنے جد امجد رسول خدا ۖ کو الوداع کہہ کر مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے جب آپ نے یزید کی کھلم کھلا مخالفت اور ناسازگار ماحول کے سبب اپنے وطن کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا تو آپ مدینہ سے سورةقصص کی آیات ١٨کی تلاوت کرتے ہوئے نکلے اس کے ساتھ امام نے یہ فرمایا میں اپنے نانا رسول خدا ۖ کی امت کی اصلاح کی غرض سے نکلا ہوں” یہ دونوں امام کے سفر کی علت کو واضح کرتے ہیں ۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ نواسہ رسول اکرمۖ حضرت امام حسین نے مدینہ سے مکہ اور مکہ سے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کرکے کربلا کے سفر کے دوران اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے میں واشگاف انداز سے اظہار کیا اوردنیا کی تمام غلط فہمیوں کو دور کردیا،موت جیسی اٹل حقیقت کے یقینی طور پر رونما ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیارنہ ہوئے یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کی طرف سے ہر قسم کی مالی’ دنیاوی ‘ حکومتی اور ذاتی پیشکش کو ٹھکرایا اور صرف قرآن و سنت کے عادلانہ نظام کے نفاذ کو ترجیح دی۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام عالی مقام کی بے مثال جدوجہد اور تحریک سے آج بھی دنیائے عالم میں آزادی و حریت کی تحریکیں استفادہ کررہی ہیں ۔دنیا میں جو طبقات فرسودہ’ غیر منصفانہ’ ظالمانہ، اور آمرانہ نظاموں کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں امام کی جدوجہد ان کے لئے سب سے بڑی مثال اور مینارہ نور ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ معاشروں کے تمام محروم و مظلوم طبقات امام حسین کی جدوجہد سے استفادہ کرسکتے ہیں کیونکہ آپ نے فقط ایک طبقے کی فلاح کی بات نہیں کی بلکہ پوری انسانیت کی فلاح وصلاح کی بات کی ہے۔ البتہ خصوصیت کے ساتھ محروم’ مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کیا۔ اس کے ساتھ حکمرانوں کی بے قاعدگیوں’ بے اعتدالیوں’ بدعنوانیوں’ کرپشن’ اقرباء پروری’ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کی واضح نشاندہی فرمائی۔ امام حسین کے اس کردار سے آج دنیا کا ہر معاشرہ اور ہر انسان بلا تفریق مذہب و مسلک استفادہ کرسکتا ہے۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین