شب برات اطاعت خداوندی کیساتھ اور ظلم و جبر کے خاتمے کی دعا کیساتھ منائی جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان
عقیدہ مہدی، ظہور اور قیام مہدی کا تعلق اسلام کے عادلانہ نظام کیساتھ ہے ، علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام ۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سیدساجدعلی نقوی کہتے ہیں کہ شب برات ایسے موقع پر آرہی ہے جب دنیا میں جس طرح ظلم و جبر اپنی انتہاءکو پہنچ چکاہے اور سامراج جس طرح سے انسانیت کو روندنے کے درپے ہے لازم ہے تو خلوص دل کیساتھ اطاعت خداوندی کی جانب نہ صرف رغبت بیدار کی جائے بلکہ ظلم کے جبر کے خاتمے کی دعا کے ساتھ اہتمام کیا جائے، نیمہ شعبان کی بابرکت رات اطاعت خداوندی کی تجدید اور خواہشات نفسانی کی نفی کرکے نفس امارہ کو شکست دینے کے عہد اور نئے عزم وحوصلے کے ساتھ زندگی کا آغاز کرنے کا حسین موقع فراہم کرتی ہے اس رات رحمت کے فرشتے زمین پر اتر کر انسانوں کو آئندہ سال کے لیے رحمت کی نوید سناتے ہیں اور انہیں موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ گذشتہ سال کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے آئندہ سال اطاعت الہی اور حسن عمل کے ساتھ گزاریں۔ شب برات میں خدا تعالی کی خوشنودی کا حصول اور طلب مغفرت بارے متعد د احادیث بیان ہوئیں۔
و لادت امام زماں امام مہدی ؑ کی مناسب سے عقیدہ مہدی ظہور و قیام مہدی بارے متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ عقیدہ مہدویت کا سب سے بنیادی پہلوعدل و انصاف پر مبنی پاکیزہ اور صالح معاشرہ کی تشکیل ہے ،انسانوں کو جب بھی مشکلات گھیرے میں لیتی ہیں ، انکے ساتھ ظلم و زیادتی کی انتہا ہوتی ہے ، انسانی معاشروں میں نا انصافی، بے عدلی، تشدد اور برائیوں کا رواج ہوتا ہے تو وہ ایک مسیحا کے منتظر ہوتے ہیں کہ جو انہیں مشکلات سے نکالے ظلم کا خاتمہ کرکے معاشرے کو تمام برائیوں سے پاک کرے، ایک پرامن، صالح اور نیکی پر مبنی معاشرہ قائم کرے ۔یہ پاکیزہ وبابرکت رات اس حالت میں آرہی ہے جب سامراج اپنی تمام تر خباثتوں، مظالم اور جبر کی انتہاءکو پہنچ چکاہے ، مشرق وسطیٰ خصوصاً غزہ میں جس انداز میں انسانیت کی تذلیل کرکے اسے ظالمانہ انداز میں رونداگیا اب ایک اور اسلامی برادر ملک ایران کےخلاف دہشت گردی کا اعلان کرچکاہے لہٰذا امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ظلم کے خاتمے، ظالم کے سامنے کھڑے ہونے اور مظلوم کا ساتھ دینے کی اپنی اساس کی جانب متوجہ ہوں کیوں کہ اس سے بہتر انداز میں موجودہ صورتحال میں اس عظیم شب کونہیں منایا جاسکتا۔


