ہفتہ, اپریل 25, 2026
ہومقائد کے مواقفاگر دنیا میں کسی نے امریکہ اور اسرائیلی سامراج کو للکا را...

اگر دنیا میں کسی نے امریکہ اور اسرائیلی سامراج کو للکا را ہے تو وہ انقلاب اسلامی ایران ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان

پاکستان میں عادلانہ نظام کے قیام کیلئے رول ادا کریں ، علامہ سید ساجد علی نقوی

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے جامعة المنتظر میں شہید رہبر آیت ا۔۔ہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کا رسم چہلم منعقد کرنے پر سرمایہ ملت حضرت آیت ا۔۔ہ حافظ ریاض حسین نجفی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ شہید رہبر ایک بہت بڑی شخصیت تھے ہمہ جہت شخصیت ،رہبر کو شہید کرنے کا اصل مقد انقلاب اسلامی کاخاتمہ تھا جس نے للکارا سامراج کو،دنیا پر رائج نظام کو، غلامی کے نظام کو ، جبر کے نظام کو بے انصافی کے نظام کو اور طبقاتی تفریق کے نظام کو وہ نظام اس دنیا کے اندر موجود ہے اور اگر دنیا میں کسی نے ا س کو للکا را ہے تو اس پورے عرصے میں تو وہ انقلاب اسلامی نے للکارا ہے یہ دشمنی تھی ، سمجھنے کی کوشش کیجئے روح انقلاب کو سمجھئے انہوںنے خامنہ ای کو قتل کرنے کے ذریعے روح انقلاب کو قتل کرنے کی کوشش کی ہے اس کو بچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ہم پاکستان میں ہیں اس انقلاب کو بچائیے سوچئے اس کیلئے ، آزادی استقلال ، قدس کی آزادی اور فلسطینیوں کے حقوق پہلے آپ نے کبھی بھی نہیں سنیں ہونگے انقلاب جب آیا تو آپ کو پتہ چلا کہ فلسطینیوں کے حقوق بھی ہیں اور قدس دشمنوں کے قبضے میں بھی ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کو آزاد کرائیں ۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ پاکستان کے حالات کو بھی سمجھتا ہوں ،لستُ بجاہل ،میں اس ملک میں رہتا ہوں جس کی اپنی سیاست ہے اپنا آئین ہے جس کی اپنی پالیسیاں ہیں ایسے انداز میں ایسی ظرافت سے اقدامات کئے کہ اس ملک کی پالیسیوں کو راستہ ملا اور مجھے کہنے دیجئے کہ آج جو پاکستان مورد اعتماد بنا ہوا ہے ایران کا اور انقلاب کا تو اس میں کچھ تھوڑی بہت کو شش ہماری بھی ہے ایسی فضا پیدا کی اس ملک کے اندر، میں شیعہ سنی کے لفظ بولنے سے بھی گریز کرتا ہوں اس لئے کہ میں اس سے ماورا سوچتا ہوں یہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہم نے یہاں جو پالیسیاں اپنائی تھیں ان کی تائید ہوئی اس ملک کے اندر اتحاد و حدت کی محفلیں ہم نے سجائیں ابھی چند مہینے پہلے ہم نے جو اجلاس بلایا تھا اس میں اٹھائیس ، تیس مذہبی جماعتیں جس میں مولانا فضل الرحمن بھی ہمارے کہنے پر تشریف لائے ایک تنظیم کی شکل میں کوششیں ہوئیں اور اس پر مزید رنگ چڑھایا رہبر شہید کے اس فتوے نے جس میںکہا گیا کہ مقدسات کی توہین سے اجتناب کیجئے ، وحدت اتحاد کو فروغ دیں،یہاں پر ایک سلسلہ شروع کرایا گیا فرقہ واریت کا ، گروہوں کا اور لشکروں کا یہ اسی انقلاب کی حمایت کے نتیجہ میں تھا اصل یہ کوشش انقلاب کیخلاف تھی نشانہ ہمیں بنایا جارہا تھا اور ہم نے اس کو ناکام بنایا آج ڈھونڈ چراغ ِ رخِ زیبا لے کر آج ڈھونڈ وں کہاں ہیں وہ لوگ جو تشیع کے خلاف مہم چلا نے والے تھے ہم نے اسے ناکام بنایا ۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنی صفوں کے اندر اتحاد و وحدت پیدا کریں، رہبر یا دوسرے بزرگان کی زندگیوں سے درس حاصل کریں ، باہمی ہمدردی ،باہمی برداشت اور تسلیم کرنا صبر و حوصلہ سے کام لینا مل کر چلنا یہ پیدا کریںیہ روح انقلاب ہے ، منفی بات سے گریز کریں اور جو کرتا ہے آپ کے زیر اثر ہے یا فلاں کے زیر اثر ہے ان کو روکئے تاکہ ایک فضا پیدا ہو اور بہتر سے بہتر فضا پیدا ہواور ہم آگے بڑھ سکیں اور اپنا رول ادا کر سکیں ۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین