جمعہ, مئی 1, 2026
ہومقائد کے مواقفیکم مئی کو شکاگوکیساتھ غزہ وجنگ سے متاثرہ مزدوروں کے نام سے...

یکم مئی کو شکاگوکیساتھ غزہ وجنگ سے متاثرہ مزدوروں کے نام سے منسوب کیا جائے،علامہ سید ساجد علی نقوی


شکاگو میں سرمایہ داروں نے ظلم ڈھایا جبکہ غزہ ،تہران ، بیروت، دمشق ، سری نگر میں صہیونیوں ، امریکی سامراج اور ہندوتوانے قیامت برپا کر دی ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
یوم مزدو ر ایسے وقت میں آیا جب کسانوں اور مزدوروں کے حالات پر شاعر مشرق کے بے ساختہ اشعار ترجمانی کرتے ہیں،پیغام
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کایکم مئی ”یوم مزدور 1886 ” کے موقع پر کہنا ہے کہ یہ دن شکاگو کے ان سینکڑوں بے کسوں کی یاد میں منایا جاتاہے جنہوں نے اپنے حق کیلئے آواز بلند کی تھی جبکہ غزہ کے مزدور کو احتجاج تو کجا اپنے ہی وطن میں وطن و بے یارومدد گار کرکے ظلم کی بھینٹ چڑھادیاگیاوہاں سینکڑوں نے جان دی یہاں ہزاروں شہید جبکہ لاکھوں بے گھر و بے سروسامانی میں ظلم کی بھیانک تصویر بن گئے اس پر بس نہ ہوا تو بیروت، دمشق و تہران میں بھی انسانی آبادی کو صہیونی و سامراجی رجیم نے نشانہ پر رکھ لیا مگرافسوس عالمی انسانی و بنیادی حقوق کے واویلا کرنیوالے بھی اس یکطرفہ ظلم کو نہ روک پائے،صد ہزار افسوس کہ ہم بھی کچھ نہ کرپائے۔یکم مئی کی طرح غزہ کے مزدوروں ،جنگ سے متاثرہ غرباء کے نام بھی ایک دن منسوب کیا جائے یا اس عالمی دن کی مناسبت میں توسیع کی جائے کیونکہ خود اقوام متحدہ کہہ چکا کہ دنیا میں انسانیت کی جگہ درندگی بڑھ گئی ۔
دوسری جانب انہوں نے عام پاکستانی مزدور کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یوم مزدور ایسے وقت میں آیا جب کسان اپنی فصل کی قیمت پر پریشان تو مزدور آئے روز بڑھتی مہنگائی ،خطے کی صورتحال کے سبب پٹرولیم مصنوعات میں اضافے اور روزگار کے مسدود ذرائع پر نوحہ کنا ں جس پر شاعر مشرق کے اشعار تر جمانی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار انتہائے سادگی سے کھاگیا مزدور مات
مزدورو ں کے شب و روزکی مشکلات اور موثرطبقات کی پرتعش زندگانی پر فرمایا
خلق خدا کی گھات میں رندو فقیہ و میر و پیر۔تیرے جہاں میں ہے وہی گردش صبح و شام ابھی
تیرے امیر مال مست، تیرے فقیر حال مست ۔ بندہ ہے کوچہ گرد ابھی، خواجہ بلند بام ابھی
قرآن پاک بھی اسی جانب سورة الحشر آیت نمبر7 میں اسی جانب رہنمائی فرماتاہے کہ ”دولت صرف امراء میں ہی گردش نہ کرتی رہے ”اور منصفانہ تقسیم کی طرف متوجہ کرتاہے، سیرت رسول اکرمۖ اسی پر قائم رہی، حضرت علی نے اپنے دور خلافت کے آغاز میںپہلا اصلاحی اقدام یہ اٹھایا کہ قومی خزانے میں سب کے لئے مساوی مواقع دینے کا اعلان کیا مگر افسوس 7دہائیاں گزرنے کے باوجود آج مزدوروں و محنت کشوں اور کسانوں کو ان کا جائز حق ملنا بہت مشکل ہوچکا ۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین