اتوار, اکتوبر 25, 2026
ہومقائد کے مواقفخواتین عالم کیلئے بیٹی،بیوی اور ماں ہر زاویہ نگاہ سے بہترین آئیڈیل...

خواتین عالم کیلئے بیٹی،بیوی اور ماں ہر زاویہ نگاہ سے بہترین آئیڈیل شخصیت جناب سیدہ فاطمہ زہرا کی ہے،علامہ سید ساجد علی نقوی

خواتین عالم کیلئے بیٹی،بیوی اور ماں ہر زاویہ نگاہ سے بہترین آئیڈیل شخصیت جناب سیدہ فاطمہ زہرا کی ہے،علامہ سیدساجدعلی نقوی
ان کی یاد اور پیغام کو زندہ رکھنے کا طریقہ یہ کہ ان کی ذات مطہرہ سے عقیدت و احترام اور محبت کے ساتھ ان کے کر دار کو اپنا یا جائے،قائد ملت جعفریہ پاکستان
راولپنڈی/اسلام آباد 25 اکتوبر 2026ء :قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے دختر رسول اکرم ۖ حضرت فاطمہ زہرا کے حوالے سے پیغام میں کہا کہ خواتین عالم کیلئے بیٹی ،’ بیوی اور ماں ہر زاویہ نگاہ سے بہترین نمونہ عمل اور آئیڈیل شخصیت جناب سیدہ فاطمہ زہرا کی ذات ہے ۔زہرا،بتول، سیدہ النسا،طاہرہ ، عذرا، محدثہ، معظمہ اور ام ابیھا ا پ کے مشہور القاب ہیں۔ جناب سیدہ کا دختر رسولۖ ہونے کے حوالے سے احترام اور عقیدت کے ساتھ وہ عالم نسواں کے لئے قیامت تک نمونہ عمل ہیں۔
شاعر مشرق علامہ اقبال نے ان سے اپنی عقیدت کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا ۔
مزرع تسلیم را حاصل بتول …مادران را اسوہ کامل بتول
آپ تسلیم و رضا کی کھیتی کا حاصل اور تمام مائوں کے لئے کامل ترین نمونہ ہیں
اسی طرح وہ جناب سیدہ کی عظمت کے اس قدر قائل تھے کہ اپنے کلام میں فرمایا۔۔۔
”رشتہ آئین حق زنجیر پاست’ پاس فرمان جناب مصطفی است’ ورنہ گردتبش گردید می’ سجدہ ہابرخاک او پاشید می
شریعت حقہ کا رشتہ میرے پاؤں میں زنجیر کی طرح ہے اور مجھے رسول خدا محمد مصطفیٰ ۖ کے فرمان کا پاس ہے، ورنہ میں آپ کی قبر کے گرد طواف کرتا اور آپ کی خاک پر سجدے نچھاور کرتا،اانہوںنے فرمایا کہ ۔۔۔
اشک و جبرئیل بر چید از زمین ہمچوں شبنم ریخت بر عرش بریں
جبرئیل نے ان کے آنسو زمین سے اُٹھائے اور شبنم کی طرح عرش بریں پر ڈال دئیے
علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ سنگین دور میں جب خواتین میں فکری انتشار پیدا ہوچکا ہے اور ترقی و جدت کے نام پر خواتین کا ہر معاشرے میں بالخصوص یورپ اور مغربی معاشروں میں شدت سے استحصال کیا جارہا ہے ایسے حالات میں سیدہ فاطمہ زہرا کی سیرت اور کردار ہی واحد ذریعہ ہے جو دنیا بھر کی خواتین کو انحراف ‘استحصال اور گناہوں سے بچاسکتا ہے۔ آزادی نسواں کی حدود و قیود ہر سوسائٹی نے مقرر کررکھی ہیں سوائے ان لوگوں کے جو مادر پدر آزاد ہیں اور کسی ضابطے’ اخلاق اور قانون کے پابند نہیں اور یہی لوگ ایسے معاشروں کی تشکیل میں مصروف ہیں ‘ اسکی عزت و حرمت کو پامال کیا جائے اور مرد و زن کے اختلاط سے معاشروں میں بگاڑپیدا کیا جاسکے لہذا ان حالات میں مسلم خواتین آزادی کے ان اصولوں کی روشنی میں جدوجہد کریں جو جناب سیدہ کی طرف سے سامنے آئے ہیں کیونکہ سیدہ فاطمہ کی پرورش آغوش رسول ۖ میں ہوئی۔قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی اور خاندانی معاملات سے لے کر اجتماعی معاملات تک ہر موقع پر سیدہ کی سیرت کو مدنظر رکھیںاور ایسی نیک سیرت نسلیں معاشرے کو فراہم کریں جو دنیا میں بہتر معاشرے کے قیام کی استعداد رکھتی ہوں ۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین