پیر, اکتوبر 26, 2026
ہومقائد کے مواقف8 دہائیاں مکمل ہوگئیں، آج بھی کشمیری اپنے بنیادی حقوق کے منتظر،...

8 دہائیاں مکمل ہوگئیں، آج بھی کشمیری اپنے بنیادی حقوق کے منتظر، علامہ سید ساجد علی نقوی

8 دہائیاں مکمل ہوگئیں، آج بھی کشمیری اپنے بنیادی حقوق کے منتظر، علامہ سید ساجد علی نقوی
عالمی منصفوں کی کمزور پالیسیوں کے سبب کشمیری و فلسطینی اپنی سرزمین پر ہی بے وطن و مظلومیت کی جیتی جاگتی تصویر، قائد ملت جعفریہ پاکستان

آج دنیا میں بدامنی کی سب سے بنیادی وبڑی وجہ مسئلہ کشمیر و فلسطین کا حل نہ ہوناہے، 27 اکتوبر یوم سیاہ کشمیر پر پیغام
راولپنڈی /اسلام آباد26 اکتوبر 2026ء : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ8 دہائیاں مکمل ہوگئیں مگر آج بھی کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق کے منتظر ، سری نگر و غزہ آج کسمپرسی کی تصویر بنے ہوئے ،کشمیری و فلسطینی اپنے بنیادی انسانی حقوق کیلئے آج بھی عالمی منصفوں کی کمزور پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، اپنی ہی سرزمین پر اس کے بیٹوں کو بے وطن و مہاجر بنادیاگیا، آج دنیا میں بدامنی کی سب سے بنیادی وبڑی وجہ مسئلہ کشمیر و فلسطین کا حل نہ ہوناہے۔ ان خیالات کا اظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 27 اکتوبر یوم سیاہ کشمیر (1947 ء میں بھارتی فوج بغیر کسی آئینی، قانونی جواز کے قابض ہوئی)پر اپنے پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر بین الاقوامی اذہان نے اقوام متحدہ جیسے ادارے کا قیام عمل میں لایا تاکہ دنیا کو تباہی کی بجائے امن و آشتی کی جانب گامزن کیا جاسکے، طاقت کی حکمرانی کی جگہ آئین وقانون اور بین الاقوامی چارٹرز کی حکمرانی قائم کی جائے مگر افسوس اقوام متحدہ کی تاسیس کی آٹھ دہائیاں گزر گئیں مگر یوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے اقوام متحدہ نہ صرف ناکام ہوگیاہے بلکہ عالمی کمزوری کا شکار ہوکر طاقت ور سامراج کی لونڈی بن کر رہ گیا کیونکہ دوسری طرف 8دہائیوں کا طویل عرصہ گزر گیا ، سب کچھ بدل گیا، مگر آج بھی کشمیری و فلسطینی ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہیں اور نام نہاد عالمی منصفوں کی دوغلی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، اپنی ہی سرزمین پر اسکے وارثوں کو نہ صرف بے دخل کردیاگیا بلکہ بے وطن کرکے مہاجر بنادیاگیا مگر عالمی اداے انسانی و بنیادی حقوق، ترقی اور اپنے مفادات کی خاطر دیگر عنوانات کا استعمال تو کرتے ہیں مگر جن دو مظلوم خطوں ان کی سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے وہاں بڑی طاقتوں ، سامراجیت کی پشتی بانی کے سبب دیکھنے کی جرات بھی نہیں کرتے ، کونسا ظلم ہے جو ان مظلوم اقوام پر روا نہ رکھاگیا ہومگر مجال ہے کہ کوئی لفظ بھی نام نہاد جمہوریت بھارت یا ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کیخلاف کسی بڑے ملک یا ادارے کا نکلا ہو بلکہ اپنے مفادات کی خاطر مسلسل خاموشی اختیار کی جارہی ہے۔ انہوںنے متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ آج اگر جنوبی ایشیا یا مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ، جنگ اور محاذ آرائی عروج پر ہے تو اس کی بنیادی وجوہ میں مسئلہ کشمیر وفلسطین ہیں جو عالمی منصفوں کی دوغلی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھے اور آج انسانیت امن و آشتی کو ترستی ہے۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین