بدھ, مارچ 4, 2026
ہومقائد کے مواقفسیرتِ حضرت امام حسنؑ امن، صلح اور امت کے اتحاد کی روشن...

سیرتِ حضرت امام حسنؑ امن، صلح اور امت کے اتحاد کی روشن مثال ہے ، علامہ سید ساجد علی نقوی

راولپنڈی/ اسلام آباد4 مارچ 2026 ء : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ فرزند رسول اکرم جوانان جنت کے سردار حضرت امام حسنؑ کے علم‘ حلم‘ جلالت اور کرامت میں عکس رسول اکرم واضح طور پر نظر آتا ہے۔ آپؑ نے اپنی زندگی میںامن و اخوت اور صلح و محبت کی لاثانی روایات قائم کیں جن سے سیرت رسول اکرم کی عکاسی ہوتی ہے۔ امام حسن مجتبی ؑ کا یہ قول ”جو شخص دنیا کو بہت محبوب رکھتا ہے اس کے دل سے آخرت کا خوف چلا جاتا ہے“ انسان و انسانیت کی ہدایت کے لئے بہترین گائیڈ لائن ہے۔حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت باسعادت (15 رمضان المبارک) کے موقع پر علامہ ساجد نقوی نے کا کہنا ہے کہ امام حسن مجتبی ؑ امیر المو¿منین علی بن ابیطالب ؑ اور سید ہ فاطمہ زہرا ؑ کے پہلے فرزند تھے اس لیے امام ؑ کا تولد پیغمبر گرامی ‘ انکے اہل بیت اور اس گھرانے کے تمام چاہنے والوں کی خوشیوں کا باعث بنا۔آپ کے بہت سے القاب ہیں کہ ان میں : سبط اکبر، سبط اول، طیب، قائم، حجت، تقی، زکی، مجتبی ،زاہد و برر سب سے زیادہ مشہور لقب ” مجتبی ” ہے آپ کو کریم اہل بیتؑ بھی کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اکر م نے امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کے بارے میں فرما یا ”الحسن والحسین امامان قاما او قعدا“حسن ؑ اور حسین ؑ دونوں امام ہیں خواہ وہ قیام کریں یا بیٹھے رہیں۔“
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ صلح امام حسن ؑ عالم اسلام کے لئے اہمیت کا مقام رکھتی ہے جس سے سبق حاصل کرکے مسلمان انتشار و افتراق‘ جنگ و جدال اور قتل و غارت گری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ حضرت امام حسنؑ نے جن مشکل‘ کٹھن اور سنگین حالات میں امت مسلمہ کو جنگ اور فساد سے بچانے کے لئے اور اسلام کی بقاءکے لئے صلح کی یہ ان کے کردار کی خصوصیت اور سیرت کا امتیاز ہے۔ تنگ نظری‘ ذاتی خواہش اور انفرادی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کے حصول اور اسلام کے استحکام کے لئے باہمی رواداری اور صلح و محبت کا ماحول بناکر آپ نے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ آج کے اس کٹھن دور میں جب مسلمان فرقہ واریت‘ مسلک پرستی‘ انتہا پسندی اور اخلاقی جرائم میں مبتلا ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ان سے نبرد آزما ہونے اور اختلافات کے خاتمے کے لئے باہمی صلح و رواداری کو فروغ دیا جائے اور فروعی اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے سینکڑوں مشترکات پر بلاتفریق فرقہ و مسلک جمع ہوکر مسلما نوں کو متحد کیا جائے اسی سے دین اسلام کو مستحکم ہوگا اور مسلمان خدا کی دنیا کے وارث ہوں گے۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین