امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت رحلت پیغمبر ۖ کے بعد تاریخ کا سانحہ کبریٰ ہے ، علامہ سید ساجد علی نقوی
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا مشن قرآنی تعلیمات کی تاویل و تشریح اور ہر سطح پر عادلانہ نظام کا نفاذ تھا ، پاکستان کے مسائل کا حل بھی شفاف ، منصفانہ، عادلانہ نظام میں مضمر ہے ، قائدملت جعفریہ پاکستان
راولپنڈی / اسلام آباد10مارچ 2026 ء : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے21 رمضان المبارک کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ حضرت علی ابن ابی طالب کی شہادت رحلت پیغمبر ۖ کے بعد تاریخ کا سانحہ کبریٰ ہے ، چنانچہ 19رمضان ابن ملجم کی ضرب کے بعد آسمان و زمین کے درمیان یہ صدا بلند ہوئی ” تھدمت وا۔۔۔ہ ارکان الھدی” خدا کی قسم ہدایت کے ستون گرگئے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مقدس مشن کیلئے جدوجہد جاری رہنی چا ہیے اگرچہ اس راستے میں جان کی قربانی بھی دینی پڑے اس کے ساتھ ہمیں اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے کہ شہید ہونے والی شخصیت کا مشن کے خدو خال کیا تھے تاکہ اس کے زندہ رکھنے کی جدوجہد کی جائے۔ رسول اکرم ۖ نے فرمایا تھا اے علی میں نے تنزیل پر جنگ کی ہے آپ تاویل پر جنگ کریں گے ،حضرت علی کا مشن قرآنی تعلیمات کی تاویل و تشریح اور ہر سطح پر عادلانہ نظام کا نفاذ تھا ۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل بھی شفاف ، منصفانہ، عادلانہ نظام میں مضمر ہے جس میں امیر المومنین کے مثالی دور کے اصولوں سے استفادہ کرتے ہوئے ظلم کا نام ونشان مٹایا جائے، تجاوز کا خاتمہ کیا جائے،تمام شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق دستیاب ہوں۔ طبقاتی تقسیم اور تفریق کا خاتمہ کیا جائے۔ اتحادووحدت اور اخوت ورواداری کا عملی مظاہرہ ہو۔ انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ منافرت کا وجودہی باقی نہ ہو،امن ،خوشحالی کا دور دورہ ہو، معاشی نظام قابل تقلید ہو اور معاشرتی سطح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے اتنی بلند ہوجائے کہ دنیا کے دوسرے معاشرے اس کی پیروی کرنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھیں۔


