خطاب نام نہا د سپرپاور کی شکست کاچھپا احساس نمایاں،مقاومت نے عصر حاضر کا ابرھہ اوندھے منہ گرادیا،ساجد نقوی
امریکی سامراج و ناجائز صہیونی نظام کاماضی ناگا ساکی، حال غزہ ومیناب سکول، قائد ملت جعفریہ پاکستان کا ردعمل
اسلام آباد : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سامراجی صدرکے امریکی عوام سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا خطاب نام نہا د سپرپاور کی شکست کاچھپا احساس نمایاں،مقاومت نے عصر حاضر کا ابرھہ اوندھے منہ گرادیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ اگر امریکہ مضبوط ، پاور فل اور نام نہاد سپرپاور تھا بھی تو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟ واضح ہوگیا کہ جسے وہ عام دنیا کی طرح ایک عام سا ملک تصور کرتا تھا وہ ملک جس پر 47 سال سے ظالمانہ جابرانہ پابندیاں عائد کیں ، بقول سامراجی صدر کے اس کی کوئی حیثیت نہیں تھی تو پھر 32 روز بعد یہ جھلا کر یہ کہنے پر کیوں مجبور ہوگیا امریکہ آج بھی مضبوط ہے۔ عصر حاضر کے ابرھہ کا یہی وہ احساس کمتری، احساس شکست و ریخت ہے جسے چھپانے کےلئے پہلے ٹویٹس پھر خطاب کا سہارا لیاگیا جس سے نہ صرف سامراجی دفاعی نظام، حصار اور ناجائز صہیونی قابض ریاست کی چوہدراہٹ کا بھانڈابیچ چوراہے پھوٹ چکاہے بلکہ ایرانی مقاومت و نظام جسے یہ رجیم چینج کہہ رہے ہیں پہلے سے زیادہ مضبوط اور قوی انداز میں ابھر کر سامنے آچکی، آج ایرانی قوم فتح سے لبریز ترانے جبکہ قابض و جارح ممالک بنکروں میں چھپنے پر مجبور ہیں ۔
انہوںنے مزیدکہاکہ غنڈہ گرد اور قاتل ریاست کوئی اور نہیں بلکہ خود امریکی سامراج اور اسکا بغل بچہ صہیونی اسرائیل ہے جس کے ہاتھوں پر غزہ، لبنان، شام، عراق، افغانستا ن اور اب ایران کے بے گناہ ، کم سن بچوں، بزرگوں کا نہ صرف خون ہے بلکہ ماضی میں ہیروشیماناگاساکی اسکی اس بدمعاشی، غنڈہ گردی ، دہشتگردی اور قتل کی سنگین ترین مثالیں ہیں، امریکی صدر کے خطاب میں اہداف کی ناکامی ، جنگ کی شکست کے احساس کے سوا کچھ نہیں ، بین الاقوامی ماہرین اور شخصیات بھی آج اس خطاب کے بعد انگشت بدنداں ہیں۔


