پیر, مئی 25, 2026
ہومقائد کے مواقفروز عرفہ توبہ و استغفار، عبادات و اطاعت کا دن ہے، علامہ...

روز عرفہ توبہ و استغفار، عبادات و اطاعت کا دن ہے، علامہ سید ساجد علی نقوی

روز عرفہ توبہ و استغفار، عبادات و اطاعت کا دن ہے، علامہ سید ساجد علی نقوی
یوم عرفہ کے روز اطاعت خداوندی کے جذبے سے سرشا ر ہوکر اپنی دنیوی و اخروی نجات حاصل کریں، قائد ملت جعفریہ پاکستان
امام عالی مقام کی طرف سے حضرت مسلم بن عقیل کو سفیر مقرر کرکے کوفہ کی جانب روانہ کرنا بھی انکی قدر و منزلت کو واضح کرتا ہے
راولپنڈی/ اسلام آباد25 مئی 2026 ء : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 9 ذی الحجہ یوم عرفہ اور حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے روز عرفہ توبہ و استغفار کا دن ہے اس دن خداتعالی نے اپنے بندوں کو عبادت و اطاعت کی دعوت دی ہے ۔قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یوم عرفہ کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر اطاعت خداوندی کے جذبے سے سرشا ر ہوکر اپنی دنیوی و اخروی نجات کا سامان فراہم کرنے کی سعی و کوشش کی جاسکتی ہے اس ضمن میں امام زین العابدین علیہ السلام کی معروف روایت ہے کہ” آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو لوگوں سے مانگ رہا ہے تو فرمایا وائے ہو تم پر آج بھی تم لوگوں سے سوال کررہے ہو جب کہ خالق کائنات سے امید ہے کہ آج ماں کے شکم میں موجود بچے کو بھی محروم نہیں رکھے گا” کتب میں تفصیل کے ساتھ یوم عرفہ کے اعمال مذکور ہیں جیسے روزہ’ غسل’ زیارت امام حسین وغیرہ معروف ہیں۔علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ حضرت مسلم بن عقیل کو حجت خدا امام کا نائب خاص ہونے کا شرف حاصل ہے اور انہوں نے اپنے رہبر و رہنما کے مطیع ہونے اور باطل کے سامنے ڈٹ کر کلمہ حق بلند کرنے کی اعلی مثال قائم کی یہی نہیں بلکہ اس راہ میں فرزندان کی قربانی پیش کرکے اس امر کو بھی واضح اور روشن کیا کہ دین کی سربلندی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جاتا۔علامہ ساجدنقوی نے مزید کہا کہ حضرت مسلم بن عقیل کے عمل و کردار کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک فرض شناس انسان حمایت حق میں کہاں تک جاسکتا ہے ۔بنی ہاشم کے جرات و شجاعت کے عظیم سپوت اور جناب عقیل ابن ابی طالب کے فرزند جناب مسلم نے نواسہ پیغمبر اکرم ۖ اور امام عالی مقام حضرت امام حسین کے سفیر کی حیثیت سے کوفہ کا سفر اختیار کرکے اور وہاں پر سختیاں اور مظالم برداشت کرکے علم حق بلند کرکے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر جدوجہد کی وہ درحقیقت امام وقت کی اطاعت و فرمانبرداری’ ایثار و قربانی ‘ شجاعت اور وفاشعاری کا عظیم استعارہ بن کر رہتی دنیا تک کے لئے مینارہ نور قرار پائی۔انہوں نے مزید کہا کہ اہل کوفہ کی جانب سے مسلسل خطوط کے ذریعہ نواسہ پیغمبر’ امام عالی مقام کی بیعت پر آمادگی کے لئے انہیں دی گئی دعوت کے جواب میں امام نے کوفہ کے حالات جاننے کے لئے حضرت مسلم بن عقیل کو اپنا سفیر مقرر کرکے کر کوفہ کی جانب روانہ کرنا بھی جناب مسلم بن عقیل کی قدر و منزلت اور مقام و مرتبے کو واضح کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین