حضرت عمار بن یاسر اسلام کے اولین اور عظیم ترین صحابہ کرام میں شمار ہوتے ہیں، علامہ سید ساجد علی نقوی
حضرت عمار یاسرؑ کی پوری زندگی ایمان، استقامت، قربانی اور حق پر ثابت قدمی کی روشن مثال ہے،قائد ملت جعفریہ پاکستان
ظلم کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا اور آخر دم تک حق کا علم بلند رکھا جو رہتی دنیا تک کے متلاشیان حق کے لئے مینارہ نور ہے
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اولین صحابی رسول اکرم جناب عمار یاسر کی شہادت (37 ہجری ) کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر اسلام کے اولین اور عظیم ترین صحابہ کرام میں شمار ہوتے ہیں جن کے والدین اور خود انہیں اسلام کی خاطر سخت آزمائشوں سے گزرتے ہوئے ہولناک مظالم برداشت کرنا پڑے چنانچہ جب مشرکین مکہ حضرت عمار اور ان کے والدین کو تپتی ریت پر اذیت دیتے تو رسول خدا فرماتے ”صبر کرو آل یاسر تمہارا وعدہ جنت ہے۔ انہی مظالم کو سہتے ہوئے انکی والدہ کی بھی شہادت ہوئی۔ختمی مرتبت حضرت عمار یاسر کی عظمت و فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ”عمار سر سے پاﺅں تک ایمان سے بھرے ہوئے ہیں۔علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ اس عظیم المرتبت صحابی رسول اکرم کو جانشین رسول خدا حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب ؑ سے بھی بے پناہ محبت و عقیدت تھی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عمار یاسر ؑ نے رسول خدا کے ساتھ ہجرت کی اور غزوہ بدر‘ احد اور خندق سمیت دیگر اہم معرکوں میں شرکت کی وہ اپنی دیانت اخلاص اور شجاعت کے سبب صحابہ کرام میں منفرد مقام رکھتے تھے۔سن 37 ہجری میں جنگ صفین کے دوران نوے برس کی عمر میں مولا علی ؑ کے لشکر میں لڑتے ہوئے ان کی شہادت ہوئی اور پیغمبر اکرم کی پیشن گوئی درست ثابت ہوئی۔قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ حضرت عمار یاسر ؑ کی پوری زندگی ایمان‘ استقامت‘ قربانی اور حق پر ثابت قدمی کی رعوشن مثال ہے انہوں نے ظلم کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا اور آخر دم تک حق کا علم بلند رکھا جو رہتی دنیا تک کے متلاشیان حق کے لئے مینارہ نور ہے۔


