کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا، خطے کا امن اسی سے وابستہ، علامہ سید ساجد علی نقوی
غیور و بہادر کشمیری عوام 1947میں ہی الحاق پاکستان کی قرارداد کی منظوری کیساتھ پاکستان کے حق میں فیصلہ سناچکے ہیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان
خطے کا امن مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے، تمام سٹیک ہولڈرز، عوامی طبقات اور بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے تصفیہ کا حل تلاش کیا جائے، پیغام
راولپنڈی / اسلام آباد19 جولائی 2026 ( )کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا، خطے کا امن اسی سے وابستہ، عوام کے مسائل اور تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے، مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن، خطے کا امن مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے، تمام سٹیک ہولڈرز، عوامی طبقات اور بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے تصفیہ کا حل تلاش کیا جائے، کشمیرکی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی، غیور و بہادر کشمیری عوام 1947میں ہی الحاق پاکستان کی قرارداد کی منظوری کیساتھ پاکستان کے حق میں فیصلہ سناچکے ہیں، مقبوضہ علاقے کبھی اٹوٹ انگ نہیں ہوتے، بھارت ہٹ دھرمی چھوڑے اور مظلوم عوام کواستصواب رائے کا حق دے، جنوبی ایشیاکا پائیدار امن بھی مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے 19 جولائی 1947کو سری نگر میں متفقہ طور پر منظور ہونیوالی قرارداد الحاق پاکستان پر کشمیری قیادت اور عوام کی رائے کی یاد میں منائے جانیوالے یوم الحاق پاکستان پر اپنے پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ کسی بھی قو م کو جبر، ظلم کے ساتھ دبایا نہیں جاسکتا نہ ہی مقبوضہ علاقے کبھی اٹوٹ انگ ہوا کرتے ہیں یہ کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ ہے جو وہ کرچکے ہیں، اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے ساتھ ان غیور و بہادر کشمیریوں نے پیلٹ گنز کا بھی بزرگ، خواتین اور بچوں سمیت سب نے بلا تفریق سامنا کیا، ، کشمیر کی خصوصی حیثیت بھارتی مودی سرکار نے ختم کی لیکن کشمیری اس ظلم و جبر کے آگے زیر نہ ہوئے اور آج بھی وہ یوم الحاق پاکستان کو شدو مد کیساتھ منارہے ہیں جس پر انہیں داد تحسین پیش کرتے ہیں ، کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہو ں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو مزید موثر انداز میں اٹھانے کیلئے جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل کے ساتھ دیگر فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھا کر بھارتی نام نہاد جمہوریت کو بے نقاب کیا جاچکاہے ، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے اس تصفیہ کو حل کیلئے آگے بڑھا جائے اور تمام سٹیک ہولڈرز، عوامی طبقات کو اعتماد میں لیتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل مرتب اور عمل درآمد کیا جائے تاکہ کشمیری عوام بھی جاری ظلم و ستم کی تاریک رات کے بعد صبح آزادی دیکھ سکیں ۔
کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا، خطے کا امن اسی سے وابستہ، علامہ سید ساجد علی نقوی
متعلقہ مضامین


