جمعہ, مئی 15, 2026
ہومقائد کے مواقفیومِ نکبہ اور عالمی ضمیر کی خاموشی: علامہ سیدساجد علی نقوی کا...

یومِ نکبہ اور عالمی ضمیر کی خاموشی: علامہ سیدساجد علی نقوی کا سامراج و صہیونیت کے دہرے معیار پر سخت سوال ۔

جب تک ظالم سامراج، قابض صہیونی ہاتھ نہیں روکا جاتا، امن قائم نہیں ہوگا، علامہ سید ساجد علی نقوی
ایک طرف یوم خاندان دوسری طرف یوم المیہ ، یہی دہرا عالمی معیار، قائد ملت جعفریہ پاکستان
اسرائیلی سازشیں خطے کیساتھ خود امریکہ تک بڑھ چکی، سامراج اسی دلدل میں دھنس رہاہے، عالمی ایام پر پیغام
راولپنڈی /اسلام آباد15 مئی 2026 ء : سامراجی قوتوں کا اسرائیل جیسی ناجائز ریاست کے حوالے سے ہمیشہ دہرا معیار رہا ہے، یوم نکبہ جو ہر فلسطینی کے لئے تباہی، بربادی اور قتل و غارت گری کے سوا کچھ نہ لایا، ایک طرف پوری قوم اور خاندان اجاڑ دیئے گئے،بدترین نسل کشی کی گئی اور وحشیانہ جنسی تشدد کیا گیا۔ دوسری جانب آج کے روز یوم خاندان منایا جا رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم نکبہ 1948 (یوم المیہ)، مشرق وسطیٰ میں خنجر کی طرح پیوست ناجائز صہیونی ریاست کا یوم قبضہ سمیت خاندانوں کے عالمی دن اور عالمی امن کی طرف متوجہ کرنے بارے یکے بعددیگرے آنیوالے ایام پر پیغام میں کہاکہ 7 دہائیاں قبل اسرائیل جیسی ناجائز ریاست کو دنیا خصوصاً مشرق وسطیٰ میں خنجر کی طرح پیوست کیا گیا اور آج تک اس زہر آلود صیہونی و سامراجی و استعماری خنجر سے مظلوم و محکوم عوام کے ساتھ ساتھ اس کی سازشوں کا ہمسائے اور دیگر ممالک بھی شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ خود ناجائز ریاست کا پشتی بان سامراج بھی اس کی سازشوں سے اب محفوظ نہیں رہا اور آج ایران پر جنگ مسلط کرکے جس دلدل میں دھنس چکاہے یہ انہی سازشوں کے نتائج ہیں۔ ۔ یوم نکبہ (یوم المیہ) ہر فلسطینی، ہر ذی شعور و درد دل رکھنے والے کے لئے تباہی، بربادی، قتل غارت گری اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی یاد تازہ کرتا ہے، ایک ایسا دن جب قابض افواج اور مسلح صیہونی جھتوں کے ذریعے لگ بھگ ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو گھروں سے، ان کی زمینوں سے اور ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کر دیا گیا اور ظلم و جبر کی وہ داستانیں آج تک رقم کی جارہی ہیں جن کی مثالیں تاریخ میں کم ہی ملتی ہیں۔ دوسری طرف عراق، شام،لبنان، صومالیہ سمیت دیگر ملکو ں کو بمباری کیساتھ ساتھ اندرونی سازشوں کے ذریعے بھی کمزور کرنے کی کوشش کی گئی اوراس جنگ کو برادر اسلامی ملک ایران تک پھیلانے کی نہ صرف سازش کی گئی بلکہ آج بھی یہ جنگ جاری ہے جو دراصل ناجائز ریاست اورگریٹر اسرائیل کا شاخسانہ ہے جس کے سامنے ایرانی قوم رہبر شہید سمیت عظیم قربانیوں کیساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑ ی ہے ۔ دوسری طرف آج ہی 15 مئی کے دن کو یوم خاندان کے طور پر بھی منایا جاتا ہے، جو عالمی قوتوں اور سامراج کے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کے حوالے سے دہرے معیار کا عکاس ہے، ایک طرف یوم خاندان دوسری طرف مظلوم فلسطینیوں سمیت خطے کے ممالک میں نہتے خاندانوں کو اجاڑ دیا گیا، ان پر قیامت ڈھا دی گئی، تباہی وبرباردی کردی گئی مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ انہوں نے مزید کہاکہ جب تک ظالم صہیونی و سامراجی ہاتھ کو روکا نہیں جائیگا اس وقت پائیدار قیام امن قائم نہیں ہوگا ۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین