مادروطن کا دفاع زندہ قوموں کا فریضہ، بنیان مرصوص دشمن کو تاریخی جواب ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
پاکستان کو اب دفاع کیساتھ معاشی طور پر بھی مستحکم کرنا لازم، قومی یکجہتی، جدید علوم وقت کی ضرورت ، علامہ سیدساجد نقوی
خطے میں پائیدار امن کےلئے سفارتکاری اور نتیجہ خیزمذاکرات ہی حل، دھونس،دھمکیوں سے مسائل پیچیدہ ہونگے، پیغام
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں جنگیں کسی مسئلہ کا حل نہیں خود ایک بڑا مسئلہ ہیں مگر جب قوموں پر مسلط کی جائیں تو مادر وطن کا دفاع لازم ، دفاع وطن کےلئے جانیں نچھاور کرنیوالوںکی بلندی درجات کی دعا، جارح کو بھرپور انداز میں جواب دے کر واضح کردیاگیا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ،ناقابل تسخیر ، اب معاشی طور پر بھی مضبوط بنانا ہوگا، چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی، جدید ترین علوم و ٹیکنالوجی سے ہی ممکن، خطے میں امن و استحکام بہترین سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن مگر دھونس اور دھمکیوں سے مسائل حل نہیں پیچیدہ ہونگے۔
ان خیالات کا اظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص کا ایک سال مکمل ہونے پر پیغام اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبصرہ ، مختلف شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ جنگیں خود مسائل پیدا کرتی ہیں مگر جب جارحیت مسلط کی جائے تو مادروطن کا دفاع لازم ہوجاتاہے جس کا مظاہرہ پاکستان نے گزشتہ مئی میں کئی گنابڑے دشمن انڈیا کوبھرپور انداز میں تاریخی جواب دے کرکیا اور واضح کردیا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ، ناقابل تسخیر ہے جبکہ دوسری طرف ایران نے بھی اپنے اوپر مسلط کردہ سامراجی و صہیونی جنگ و جارحیت کا جس طرح دلیرانہ وار مقابلہ کیا وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائےگا ۔انہو ں نے مزید کہاکہ اب پاکستان کو دفاعی لحاظ کیساتھ ساتھ معاشی لحاظ سے بھی مضبوط بنانا لازم ہے جب تک پاکستان آئی ایم ایف سمیت دیگر مالیاتی اداروں سے خود کو آزاد نہیں کرےگا جب تک ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹتی کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا مضبوط مملکت کے خواب کو شرمندئہ تعبیر نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ چیلنجز کے مقابلے کےلئے قومی یکجہتی، جدید ترین علوم اور ٹیکنالوجی سے نئی نسل کو آراستہ کرناہوگا ۔
انہوں نے خطے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا نہ صرف ایک تیسرے عالمی تنازعہ کے اثرات کا سامنا کررہی ہے بلکہ صورتحال جوں کی توں رہی تو مزید مسائل پیدا ہونگے جن کا واضح حل سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے مگر یہ مذاکرات دھونس، دھمکیوں کے ماحول نہیں بلکہ آزادانہ ماحول میں ہی ممکن ہیں بصورت دیگر مسائل حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ اور صورتحال مزید کشیدہ ہوجائےگی ۔


