دستور پاکستان ایک جامع آئین مگر آئینی بالادستی میں مشکلات ،قائد ملت جعفریہ پاکستان
سپریم کورٹ کے فیصلوں کے باوجود آرٹیکل 9 بنیادی حقوق اور آرٹیکل251 قومی زبان کے نفاذ پر عمل نہ ہوسکا، علامہ سید ساجد علی نقوی
آئین ہی وہ دستاویز جس نے پورے ملک بشمول تمام طبقات اورشعبہ ہائے زندگی کو باہم متحدکیاہے، یوم دستور پر پیغام
راولپنڈی /اسلام آباد10اپریل2026ء : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ دستور پاکستان ایک جامع آئین ہے ، پاکستان کے تمام مسائل کا حل آئین پاکستان کی حقیقی معنوں میں بالادستی میں ہے جو مفقود ہے ۔آج تک عوام کے بنیادی حقوق سے متعلق آرٹیکل 9 اور قومی زبان اردو کے عملی نفاذ سے متعلق آرٹیکل 251 پر عملدرآمد نہ ہوسکا حالانکہ2015ء میں اس پر سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ بھی دیا ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے یوم دستور پاکستان کے موقع پر کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ اب مقام سوچنے کاہے کہ پانچ دہائیاں گزر چکیں مگر کیا وہ دن بھی اس قوم کو دیکھنا نصیب ہوگا کہ لوگ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا عملی مظاہرہ بھی دیکھیں ؟آئین پاکستان ہی وہ دستاویز ہے جس نے تمام اکائیوں کو آپس میں باہم جوڑ کر رکھا ہوا ہے مگر افسوس ملک میں مضبوط و مربوط جمہوری نظام نہ ہونے کے سبب ہر کچھ عرصہ بعد مسائل نے جنم لیا ۔دستور کے9 بنیادی اصول ”مساوی قانون، منصفانہ عدالتی کارروائی، فرد کا تحفظ، تعلیم و صحت کا حق،مذہبی آزادی و آزادی اظہار، نقل و حرکت کی آزادی ، سیاسی جماعت کی آزادی اور معلومات تک رسائی ” یہ شہری آزادیاںناپید ہوتی رہیں ۔انہوںنے اس موقع پر 2015ء میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ افسوس زبان جو قوموں کی پہچان ہوا کرتی ہیں آج تک قومی زبان اردو کے نفاذ سے متعلق آئین کے آرٹیکل 251پر عملی اقدام نہ ہوسکا ، انہوںنے آخر میں کہاکہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے ۔
سپریم کورٹ کے فیصلوں کے باوجود آرٹیکل 9 بنیادی حقوق اور آرٹیکل251 قومی زبان کے نفاذ پر عمل نہ ہوسکا، علامہ سید ساجد علی نقوی
متعلقہ مضامین


