منگل, اگست 18, 2026
ہومقائد کے مواقفانسانی تہذیب و وقار پرسامراجی و صہیونی ظلم کی سیاہ رات طاری،...

انسانی تہذیب و وقار پرسامراجی و صہیونی ظلم کی سیاہ رات طاری، اقوام عالم بے حسی کا شکار، علامہ سید ساجد علی نقوی

انسانی تہذیب و وقار پرسامراجی و صہیونی ظلم کی سیاہ رات طاری، اقوام عالم بے حسی کا شکار، علامہ سید ساجد علی نقوی

ظلم و جبرکا سلسلہ نہ رکا توامن، رودار ی فقط الفاظ اور کتابی باتوں تک محدود ہوگی ،قائد ملت جعفریہ پاکستان
 
اقوام متحدہ اپنے اصولوں کی پاسداری نہ کراسکا، بین الاقوامی اصولوں کی جگہ پھر طاقت کا نظریہ پروان چڑھ رہا،عالمی یوم انسانیت پر پیغام

راولپنڈی /اسلام آبا د18اگست 2026ء : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں عالم انسانیت جس کرب، اذیت اور جنونی عفریت کا شکار ہے وہ ناقابل بیان ہے، خود کو انسانی حقوق کا چمپیئن کہنے والوں نے انسانیت کی اینٹ سے اینٹ بجادی، کم سن بچوں کو روند ڈالا، اسپتال، عبادت گاہیں،بازار، انفراسٹرکچر تباہ کرڈالے، انسانیت کے روپ میں چھپے سامراجی و صہیونی درندوں کے سبب ہرطرف آگ و خون، مگر افسوس اقوام متحدہ سمیت دیگر فورمز مذمتی بیانات سے آگے نہ بڑھ سکے۔
ان خیالات کا اظہا ر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 19 اگست عالمی یوم انسانیت پر اپنے پیغام میں کیا۔انہوںنے یاد دلایا کہ 2008ء سے اس روز کو عالمی یوم انسانیت کیلئے فلاحی خدمات انجام دینے والوں اور مشکلات میں گھرے انسانوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جارہاہے مگر افسوس گزشتہ صدی سے شروع ہونیوالا ظلم 21ویں صدی کے ابتدائی26 سال میں اپنی آخری حدوں کو چھو رہاہے مگر اقوام متحدہ ، انسانی حقوق سمیت دیگر ادارے مذمتی بیانات سے آگے نہ بڑھ سکے، آج خود اقوام متحدہ کو اپنا ہائوس ان آرڈر کرنا چاہیے کہ کیا انسانی قدروں ، حقوق کی فراہمی میں کوئی عملی اقدام اٹھایاگیا یا پھرپہلے سے زیادہ انسان عدم تحفظ کا شکار ہوچکاہے ۔ فلسطین،کشمیر، افغانستان، شام،لبنان، لیبیا، عراق، صومالیہ سمیت دیگرممالک پر کونسے مظالم ہیں جو نہیں ڈھائے گئے، ایران پر کس انداز سے جارحیت مسلط کی گئی اور آج تک یہ سامراجی و صہیونی گٹھ جوڑ اس ظلم کی تاریک رات کو طاری کئے ہوئے ہے مگر کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ انہوں نے متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر ظلم کے اس ہاتھ کو نہ روکا گیا تو پھر دنیا میں امن ، انسانیت، رواداری فقط الفاظ تک محدود اور امن کی خواہش کوسوں دور ہوجائیگی کیونکہ آج کم سن بچوں کو نشانہ بنایا جارہاہے، بنیادی انسانی ڈھانچے اور تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں،ایک کے بعد ایک ملک نشانہ بن رہا ہے اور ایک بار پھر بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کی جگہ طاقت (پاور)کا نظریہ پروان چڑھایا جارہاہے جس کے نتائج انسانی وقار، تہذیب، امن کی تباہی کے سوا کچھ نہیں

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین