ہفتہ, اکتوبر 3, 2026
ہومقائد کے مواقفبزرگوں کی تکریم ، عدم تشدد اور اساتذہ کا احترام بین الاقوامی...

بزرگوں کی تکریم ، عدم تشدد اور اساتذہ کا احترام بین الاقوامی اصول جنہیں تاراج کردیاگیا، علامہ سید ساجد علی نقوی


بزرگوں کی تکریم ، عدم تشدد اور اساتذہ کا احترام بین الاقوامی اصول جنہیں تاراج کردیاگیا، علامہ سید ساجد علی نقوی
ایران،فلسطین ، لبنان سمیت مشرق وسطیٰ میں استکبارو صہیون نے بزرگوں، اساتذہ، تعلیمی اداروں کے تقدس کا بھی خیال نہ رکھا ،عدم برداشت ہی انتہاء پسندی کو دوام بخشتی ہے ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
راولپنڈی /اسلام آبادیکم اکتوبر  2026ء : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یکے بعددیگرے بزرگوں،عدم تشدد اور اساتذہ کے عالمی ایام پر اپنے پیغامات اور مختلف شخصیات سے گفتگو میں کہاکہ  قومیں بزرگ شہریوں کی تکریم، عدم تشد د اوراساتذہ کے احترام سے کامیاب ہوتی ہیں۔مذکورہ تینوں بین الاقوامی اصول جنہیں تاراج کردیاگیا،پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے حوالے سے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے نظریات کو برداشت کرتے ہوئے عدم تشدد پر عمل کیاجائے، عدم برداشت ہی انتہاء پسندی کو دوام بخشتی ہے۔ ایران، فلسطین ، لبنان سمیت مشرق وسطیٰ میں اسکتبار و صہیون نے بزرگوں ، اساتذہ، تعلیمی اداروں کے تقدس کا بھی خیال نہ رکھا ، اسلام سلامتی، امن و آشتی اور باہمی احترام کا درس دیتاہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یکم اکتوبر بزرگوں کے عالمی دن پر کہا کہ بزرگ شہری ہر معاشرے میں قابل احترام افراد ہیں اسلام میں اس کی تاکید کی گئی ہے جبکہ  دو اکتوبر عدم تشدد بارے عالمی دن ہمیں احساس دلاتا ہے کہ آج دنیا جس بے ہنگم اور بے امنی کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف اپنے مفادات کو مقدم رکھنے کی غرض سے طاقت کا بے جا استعمال، شہروں سے ریاستوں تک کو یرغمال بنانے کے سبب ہے اور دوسری طرف اپنے نظریات پر دلائل کی بجائے گالی سے گولی کے کلچر نے تشدد اور عدم برداشت کو فرو غ دیا ہے یہی عدم برداشت پہلے انتہاء پسندی اور پھر شدت پسندی کی راہ ہموار کرتی ہے لہٰذا ریاستوں، حکومتوں اور عالمی اداروں کو چاہیے کہ برداشت، عدم تشدد اورصبر تحمل کی تلقین کرنیوالوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کریں بلکہ ایسی فضا کیلئے صرف ایام کی بجائے عملی اقدامات بھی اٹھائیں
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ پانچ اکتوبر اساتذہ کا عالمی دن نہایت احترام و جذبہ کے ساتھ منایا جائے اس لئے کہ اساتذہ قوموں اور معاشروں کی تعمیر و ترقی میں نہ صرف بنیادی کردار ادا کرتے ہیں بلکہ وہ  تربیت اوررہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں، دنیا میں تما م ترقی یافتہ تہذیبوں ، معاشروں اور ریاستوں میں سب سے کلیدی کرداراساتذہ کا ہی رہا ہے جو شبانہ روز محنت کیساتھ نئی نسل کی علم کے ذریعے آبیاری اور تربیت کرتے ہیں ،اساتذہ کا احترام ہر معاشرے اور مذہب میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے البتہ قرآن کے آفاقی پیغام نے اسے نہ صرف غیر معمولی اہمیت دی  بلکہ مشرقی معاشرے کی روایات میں بھی اساتذہ کرام کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ۔انہوں نے آخر میں خطے خصوصاً ایران، فلسطین و لبنان اور غزہ کے مظلوموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ تعلیمی ادارے ہوں، اساتذہ ہوں، طلباء ہوں، کم سن بچے یا شیر خوار حتیٰ کے بزرگ شہریوں تک کو استکبارو صہیونی ناجائزدہشت گرد ریاست آج تک تشدد، ظلم کا نشانہ بنارہی ہے اور عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہیں۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین