سید محمد دہلوی مرحوم برصغیر کی ایک برجستہ علمی شخصیت وخطیب اعظم تھے ، علامہ سید ساجد علی نقوی
سید محمد دہلوی نے علمی و سماجی شعبوں میں تصنیف و تالیف ‘ تقریر و خطابت کے ذریعہ دین و ملت کیلئے گرانقدر خدمات انجام دیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان
مرحوم نے وطن عزیز کی تشکیل و تعمیر اور سا لمیت و دفاع کیلئے علماء و اکابرین کی قیادت میں صبر آزما جدو جہد کی ،55ویں برسی پر پیغام
راولپنڈی /اسلام آباد19اگست2026 ء :قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے قائد اول علامہ سیدمحمد دہلوی کی 55 ویں برسی کے موقع پرکہا کہ علامہ سید محمد دہلوی مرحوم برصغیر کی ایک برجستہ علمی شخصیت وخطیب اعظم تھے جن کا تعلق ایک معروف علمی گھرانے سے تھا جنہوں نے علمی و سماجی شعبوں میں تصنیف و تالیف ‘ تقریر و خطابت کے ذریعہ دین و ملت کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ مدرسہ ناظمیہ لکھنو جیسی ممتاز علمی درسگاہ سے کسب فیض کیا ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ وطن عزیز کی تشکیل و تعمیر اور سا لمیت و دفاع میں عوام نے علماء و اکابرین کی قیادت میں صبر آزما جدو جہد کی اور لازوال قربانیاں پیش کیں جن میں قائد مرحوم علامہ سید محمد دہلوی مرحوم کی جدوجہد اور کاوشیں اور ان کے مثبت نتائج نمایاں حیثیت کے حامل رہے یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کی گرانقدر خدمات ناقابل فراموش ہیں۔دور حاضر میں بھی پاکستان کے عوام مختلف مسائل و مشکلات سے دوچار ہوکر بھی ملکی سلامتی اور قومی وحدت کی خاطر صبر و تحمل سے کام لے رہے مگر ذمہ داران صورتحال کی سنگینی کا ادراک نہیں کرپا رہے۔علامہ ساجد نقوی نے علامہ سید محمد دہلوی مرحوم کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ برصغیر کے خطیب اعظم اور بلند پایہ عالم دین اور بے بدل قائد تھے جنہوں نے 1964 میں مطالبات کمیٹی اور مجلس علماء جیسے فورمز کے ذریعہ پرامن عوامی طرزاحتجاج کی داغ بیل ڈالی اور اپنے مطالبات کو منطقی انداز میں پیش کیا اور مثبت نتائج حاصل کئے انہوں نے پیرانہ سالی کے باوجود ملت کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ اس مشکل دور میں کم وسائل کے باوجود مسلسل اور انتھک محنت سے قوم کو شعور اور اتحاد کی نعمت کا احساس دلایا۔ آخر میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ موجودہ دور میں بھی مسائل و مشکلات کے باوجود ملی حقوق کے تحفظ ، اتحاد و وحدت کے فروغ اور مسلکی ہم آہنگی کی ترویج کے لئے ہمہ وقت جد وجہد جاری ہے۔


