یوم مواخات پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجدعلی نقوی کا پیغام
راولپنڈی/ اسلام آباد۔2 مارچ 2026 ء: قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی 12 رمضان المبارک روز مواخات پر کہتے ہیں کہ مواخات یا "بھائی چارہ” سے مراد دو مسلمان مردوں کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کرنا ہے۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد انصار اور مہاجرین کے درمیان قائم ہونے والا بھائی چارہ تاریخ میں سب سے زیادہ معروف ہے جس میں پیغمبر گرامی نے مہاجرین اور انصار کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا اور امام علی ابن ابی طالب ؑ کو اپنا بھائی منتخب کیا جو تاریخ میں تواتر کے ساتھ نقل ہوا ہے۔ امت مسلمہ کی وحدت اور عالم اسلام کے اتحادکی خاطر جتنی وحدت و اتحاد اور باہمی اخوت و یگانگت کی ضرورت اس وقت ہے پہلے کبھی نہ تھی لہذا روز مواخات کو یاد رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ آج ایک بار پھر انصار و مہاجرین والا جذبہ بیدار کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹے جائیں تاکہ مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کیا جاسکے
علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا ہے کہ پیغمبر اکر م کے نزدیک ایک طرف معاشرے میں عدالت کے قیام کیلئے جہاں ایک طرف معاشرے سے طبقاتی جنگ و جدال کا خاتمہ ضروری تھا تو دوسری طرف سے لوگوں کے درمیان محبت اور برادری ایجاد کرنے کی ضرورت تھی۔ اسی بنا پر پیغمبر اکرم نے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کرتے ہوئے ان کے درمیان محبت اور الفت پیدا کرنے کی عملی کوشش فرمائی۔سورہ حجرات کی آیت نمبر 10 (صرف مسلمان بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادو اور اللہ سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو) کے نازل ہونے سے پہلے اس اخوت اور بھائی چارگی کو صرف پیغمبر اکرم کی طرف سے اٹھائے جانے والادانشمندانہ اقدام تصور کیا جاتا تھا اور یہ گمان کیا جاتا تھا کہ پیغمبر اکرم نے ایک الہی اور دینی رہبر ہونے کے ناطے اسلامی معاشرے میں معنوی اقدار کے فروغ کیلئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ لیکن جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ کام نہ صرف اسلامی معاشرے میں اتحاد ووحدت ا یجاد کرنے کیلئے تھا بلکہ یہ کام اسلام کے سماجی اور معاشرتی اصول و قوانین کا ایک حصہ تھا جسے خدا نے مذکورہ آیت کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا ہے۔
علامہ ساجد نقوی مزید کہتے ہیں کہ اتحاد و وحدت اور امت مسلمہ کی یکجہتی کو قرآنی و نبوی فریضہ گردانتے ہوئے ہم نے آغاز ہی میں ایک تاریخی ”اعلامیہ وحدت“ پر دستخط کرکے امت مسلمہ کو ایک لڑی میں پرونے میں کوششوں کی بنیاد رکھی۔پھر نفاذ شریعت سفارشات‘ اتحاد بین المسلمین کمیٹیاں‘ ضابطہ ہائے اخلاق اور ان سے بھی بڑھ کر پہلے ”ملی یکجہتی کونسل پاکستان“ کی بنیاد رکھی جس میں ملک کے تمام اسلامی مکاتب و مسالک کی نمائندہ دینی و سیاسی جماعتوں کی بھرپور شرکت تھی اور اب بھی اس کی فعالیت جاری ہے اسی طرح سن 2000 ءکے اوائل میں برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کے پہلے تنظیمی شکل میں وجود میں آنے والے فورم ”متحدہ مجلس عمل پاکستان“ سے نہ صرف پوری اسلامی دنیا میں اطمینان و مسرت کی لہر دوڑ گئی بلکہ اس اقدام نے دنیائے عالم کو حیران و ششدر کردیا
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے واضح کیا کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ ہم سب کا ایک خدا‘ایک رسول‘ ایک قرآن اوایک کعبہ پر ایمان ہے۔ ہمارے درمیان چند ایک اختلافات فروعی نوعیت کے ہیں جن کا حل مہذب انداز میں‘ شائستگی کے ساتھ علمی سطح پر ڈھونڈنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ ہمارے اسی موقف کی تائید ہمارے بزرگان دین‘ مراجع کرام اور آیات عظام نے بھی کی اور واضح کیا کہ تمام مکاتب اور مسالک کے مقدسات کی توہین ممنوع ہے۔ باہمی محبت و رواداری کو فروغ ددے کر‘نفرتوں‘ بغض و عناد اور عداوتوں کا خاتمہ کرکے‘ فروعی مسائل اور فرقہ وارانہ تنازعات کو ہوا دینے سے گریز اور مشترکات پر جمع ہوکروحدت کا عملی مظاہرہ کیا جائے
یوم مواخات پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سیدساجد علی نقوی کا پیغام
متعلقہ مضامین


