راولپنڈی /اسلام آباد 06 نومبر2026ء :
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر ہی برصغیر میں بدامنی کی اساس، تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، جب تک کشمیری مظلوموں کو حق خود ارادیت نہیں ملے گا امن قائم نہیں ہوگا، کشمیر و فلسطین کے چپے چپے پر ظلم کی داستانیں رقم ہیں، صہیونیت و ہندوتوا سوچ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، عالمی ماحولیاتی استحصال کا دن منانے والے براہ راست انسانی استحصال کا دن منائیں۔
ان خیالات کا اظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یوم شہدائے جموں 06نومبر1947ء کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ یاد رہے اس دن مہاراجہ ہری سنگھ، بھارتی فوج اور آرایس ایس نے کشمیریوں پر ظلم کی تاریک رات طاری کی تھی۔ جنگوں اور مسلح تصادم میں ماحولیات کے استحصال کے خاتمے ‘ کے یوم پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج غیر آئینی طور پر قابض ہوئیں اور چھ نومبر 1947ء کو کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے مگر آج بھی کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کیلئے طرح طرح کے مظالم کے باوجود ڈٹ کر کھڑے ہیں ، انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں بد امنی کی بنیاد ہی مسئلہ کشمیر ہے جب تک کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا امن قائم نہیں ہوسکے گا۔ انہوں نے جنگوں، مسلح تصادم میں ماحولیات کے استحصال کے دن پر فرمایا کہ فلسطین میں یکطرفہ جنگ کے سبب انسانیت کا استحصال ہوا ہے، جگہ جگہ ظلم کی وہ داستانیں رقم ہوئی ہیں جن کی مثال نہیں ملتی ، اقوام متحدہ اب عالمی ماحولیاتی استحصال کی بجائے براہ راست انسانی استحصال کا دن منائے کیونکہ عملاً اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ مذمتی بیانات و قراردادوں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔


