27جنوری2026
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ سامراجی و صہیونی دہشتگردی کے سامنے نازیوں کا تاریخ میں غیر انسانی رویہ بھی ہیچ ہوچکا۔ ہولوکاسٹ کہیں تاریخ کے صفحات میں بعض اعتراضات کے باوجود قبیح فعل مگر آج کا غزہ،لبنان، شام عالمی امن پر نہ صرف زور دار تھپڑ ہے بلکہ اب بورڈ آف پیس کے نام پر ایک نئے کھیل کا نیا آغاز ہے ، ہولوکاسٹ کے تذکرے تو صرف دستاویزی شکل میں خال خال مگر غزہ، بیت المقدس ، مغربی کنارہ، خان یونس، شام اور لبنان میں ہونیوالی بربادی و تباہ کاری دنیا نے اپنی نظروں سے دیکھی ، عالمی میڈیا کی رپورٹس اور تاریخی غزہ ملین مارچ اس کے گواہ ہیں۔
ان خیالات کا اظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ہولوکاسٹ کے متاثرین کی یادداشت کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کیا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ اولین اصول ہے کہ ظلم جہاں پر بھی ہو وہ ظلم ہی ہے تاریخ میں نازیوں کارویہ جو بیان کیاگیا وہ غیر انسانی تھا مگر ہولوکاسٹ کی بنیاد پر بھی سوالات و اعتراضات اٹھے ، بعض حوالوں سے ہولوکاسٹ کو سراسر جھوٹ اور پراپیگنڈہ قرار بھی دیا گیا مگر اس کے باوجود اس وقت سے نہ ان اقدامات کی مذمت ہوئی بلکہ آج تک عالمی سطح پر اس معاملے پر منفی تذکرے تک پر پابندیاں ہیں تو دوسری طرف جو کچھ سامراجیت و صہیونیت نے کیا، جو قیامت غزہ ، مغربی کنارے، خان یونس، بیت المقدس کیساتھ پڑوسی ممالک شام و لبنان پر ڈھائی گئی جو حیوانیت و درندگی اور شیطانیت ظاہر ہوئی اس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ ہولوکاسٹ تاریخ ایک ایسا تذکرہ جس پر اعتراضات موجود مگر ارض فلسطین پر جو ظلم ڈھائے گئے وہ سب عالمی دنیا کی نظروں کے سامنے ہوا۔ ہولوکاسٹ کے بارے تاریخی شواہد مٹائے گئے یا خفیہ آپریشن ہوئے مگر غزہ سے بیروت اور بیت المقدس سے دمشق تک سارے مظالم دن کی روشنی کے سامنے ہوئے۔ بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کی لاشوں کے ساتھ بھوک و پیاس اور بے یارو مددگار بے سائباں انسان اور ہرطرف پھیلی تباہی ، بربادی اور کھنڈرات سامراجی و صہیونی دہشتگردی و ظلم و شیطانیت کی واضح مثال اور کبھی نہ مٹنے والے ثبوت ہیں جنہیں ہزار ہا پراپیگنڈوں کے باوجود کبھی دلوں سے ختم نہ کیا جاسکے گا کیونکہ غزہ مظالم پر جس طرح عالمی سطح پر انسانیت نے آواز بلند کی وہ بھی اپنی مثال آپ ہے مگر افسوس اقوام عالم کے حکمرانوں کے ضمیر مردہ یامفاد کی بھینٹ چڑھے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جب اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں سمیت بعض طاقت ور ممالک نے اپنے مفادات کی خاطر مجرمانہ خاموشی کا سہارا لیا تو آج ”بورڈ آف پیس ”کے نام پر ایک نئے کھیل کا آغاز ہونے کو ہے مگر وہ وقت دور نہیں جب دنیا سے ہر ظلم کا خاتمہ ہوگا اور ہر ظالم کو حساب دینا پڑیگا۔


