ہفتہ, جنوری 31, 2026
ہومقائد کے مواقفعدل و انصاف کے قیام، زائرین و عزاداری کے حقوق اور فلسطین...

عدل و انصاف کے قیام، زائرین و عزاداری کے حقوق اور فلسطین کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں: علامہ سید ساجد علی نقوی

ملک میں عادلانہ نظام وحقوق کا حصول چاہتے ہیں ،علامہ سید ساجد علی نقوی
بین الاقوامی صورتحال پر نظر ہے، سامراج کا ہدف اور کو شش یہ ہے کہ طاقت کے بل پوتے پر اسرائیل مضبوط ہو اور فلسطین نابود ہو یہ قابل قبول نہیں ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان
زائرین کا مسئلہ ، عزاداری سید الشہداکا مسئلہ، ہم سمجھتے ہیںکہ یہ ہمارا بنیادی حق ہے ، حل ضروی ہے ، بیاد شہدائے سیہون و شہدائے اسلام کانفرنس سے ٹیلی فونک خطاب-


قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بیاد شہدائے سیہون و شہدائے اسلام کانفرنس کے عظیم الشان اجتماع سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے تمام تنظیمی و غیر تنظیمی شہداء کی بلندی درجات کی دعا کے ساتھ سالانہ اجتماع کے انعقاد پر شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کو تحسین کہتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع ایک جذبہ پیدا کرے گاتنظیمی افراد میں ایک تحرک پیداہوگااور تنظیم اور زیادہ فعال ہوگی انہوں نے کہا کہ جیسا کہ میں نے ا غاز میں ایک آیت کا ذکر کیا اس سے ہمارے اغراض و مقاصد پر روشنی پڑتی ہے تمام انبیاء و رسلۖ اس لئے بھیجے گئے کہ قسط وعدل قائم ہو ، ہماری جماعت کے اہداف میں سے یہ ایک ہے، ہم اس ملک میں عادلانہ نظام و حقوق کا حصول چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں انصاف کا قیام ہو ،میرٹ ہو عدل ہو جس کیلئے تنظیم کومزید بہتر بنانا ہو گا اس کیلئے آواز اٹھانا اور جدوجہد جاری رکھنا بہت ضروری ہے ان حالات میں اہداف کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ ہم تنظیم کو مظبوط اور فعال بنائیں اپنے اندر رابطے ، یکجہتی اور ہم آہنگی پید اکریں مخالفت کو بڑھاوا نہ دیں۔انہوں نے کہا کہ اس دور میں عادلانہ نظام کا فقدان ہے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ عادلانہ نظام کیلئے جدوجہد کریں اس جدوجہد کی طرف قرآن کریم ہماری رہنمائی کرتا ہے انبیاء کرام کا مشن بھی یہی ہے اوصیا ء کا مشن بھی یہی ہے ظاہر ہے اس کیلئے آواز اٹھانا بھی بہت ضروری ہے ۔علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سطح پر جو مشکلات در پیش ہیں جو صورتحال درپیش ہے اس پر بھی ہمارا کر دار ہونا چاہیے ، بین الاقوامی صورتحال پر نظر ہے، سامراج کا ہدف اور کو شش یہ ہے کہ طاقت اوردھونس کے بل بو تے پر اسرائیل مضبوط ہو اور فلسطین نابود ہو یہ قابل قبول نہیں ہے۔اس طرح پاکستان میں بہت سے مسائل ہیں ،زائرین کا مسئلہ ، عزاداری سید الشہداکا مسئلہ ہم سمجھتے ہیںکہ یہ ہمارا بنیادی حق ہے اس سے ہم ایک انچ بھی پیچھے ہٹ نہیں سکتے۔ حالات کے تقاضوں کے ساتھ ہمارے اقدامات جاری ہیں ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اور زیادہ اس پر متوجہ ہوں، ہم آہنگی پید اکر یں اور زیادہ یکجہتی پیداکر یں اس لئے کہ یکجہتی اور ہم آہنگی ایک بہت بڑی قوت ہے اس لئے کہ جب ہم کوئی اقدامات کریں گے، کوشش کریں گے ظاہر ہے کہ ہماری کوشش ایک مہذب کو شش ہوتی ہے پر امن کوشش ہوتی ہے قانون کے دائرے میں ہوتی ہے ہم اس پہ چلتے ہوئے اپنی کوششیں اور اقدامات جاری رکھیںگے ،میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں تمام مرکزی ، صوبائی اور دیگر جتنے بھی احباب ہیں میں سب کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں اور میں دعا گو ہوں ا۔۔ہ اس اجتماع کو بااثر اور با نتیجہ بنائے اور آپ کی کوششوں کو اور کاوشوں کو باثمر بنائے ، یکجہتی اور ہم آہنگی اور زیادہ پیداکرے۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین