منگل, مارچ 24, 2026
ہومقائد کے مواقف23 مارچ یوم تجدید عہد کا دن، ملک کو تمام چیلنجز سے...

23 مارچ یوم تجدید عہد کا دن، ملک کو تمام چیلنجز سے متحد ہوکر نکالیں ، علامہ سید ساجد علی نقوی

23 مارچ یوم تجدید عہد کا دن، ملک کو تمام چیلنجز سے متحد ہوکر نکالیں ، علامہ سید ساجد علی نقوی
اس عظیم دن یہ عہد کرنا ہوگا کہ جیسے پاکستان سچ کی بنیاد پر بنایاگیا ہم سچ کو پھیلائیں اور سچ پر اکھٹا رہیں ، قائد ملت جعفریہ
مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا جبکہ مسئلہ فلسطین سے جڑا پاکستان ہے، غزہ صورتحال انسانی المیے کی شکل اختیار کرچکی
راولپنڈی /اسلام آباد23 مارچ2026 : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ 22مارچ سے 24مارچ، 1940کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر14اگست 1947کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ 23مارچ یوم تجدید عہد کا دن ہے ہمیں اس عظیم دن یہ عہد کرنا ہوگا کہ جیسے پاکستان سچ کی بنیاد پر بنایاگیا ہم سچ کو پھیلائیں گے سچ پر اکھٹا کریں گے ہر قسم کے جھوٹ اور جعل سازی سے گریز کریں ، پاکستان کو ترقی یافتہ بنا ئینگے اور معاشی و معاشرتی چیلنجز کامقابلہ کرینگے ۔
علامہ ساجد نقوی کا یوم پاکستان کے موقع پر مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا جبکہ مسئلہ فلسطین سے جڑا پاکستان ہے، غزہ کی صورتحال انسانی المیے کی شکل اختیار کرچکی، افسوس انسانی حقوق کے علمبردار سامراج و صہیونیت کی سفاکیت کے سامنے بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر و فلسطین خالصتاً انسانی مسائل ہیں، مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نا مکمل ایجنڈا جبکہ تحریک آزادی پاکستان اور تحریک آزادی فلسطین باہمی متصل ہیں ۔ غزہ جہاں ظلم و جور کی وہ سیا ہ تاریخ رقم کی جارہی ہے جس کی کوئی مثال شائد ہی دنیاکی تاریخ میں ملتی ہو۔پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھرپورعملی اقدامات کرے۔ آخر میں علامہ ساجد نقوی نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رہبر معظم کی مظلومانہ شہادت اور ساتھیوںکی شہادت کے بعد دنیا پر اب نہ صرف واضح بلکہ آشکار ہوچکا کہ سامراج و صہیون جنہیں نہ بین الاقوامی قوانین ، چارٹرز اصولوں کی پاسداری ہے نہ ان میں کسی قسم کی کوئی اخلاقی روش پائی جاتی ہے ان عظیم شہادتوں سے انقلاب اسلامی پہلے سے زیادہ قوی ، مظبوطہ ہو گا اور جلد ظالم وظلم کا خاتمہ ہوگا اس موقع پر اتحاد و حدت کی ضرورت و اہمیت بڑھ گئی ہے اور اپنے آپ کو منظم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سامراج وصہیون کی سازشوں کا مقابلہ ممکن ہو سکے اور موجودہ حالات میں حکومت کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خطہ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ رکوانے میں عملی طور پر سفارتی سطح پر مثبت کر دار ادا کریں ۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین