حضرت امام زین العابدین ؑ کے یوم شہادت پر علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام
امام زین العابدین ؑ واقعہ کربلاکے عینی شاہد ہیں ‘واقعہ کربلا کے حقائق کے بیان اور اپنی تبلیغ و ادعیہ سے واقعہ کربلا کی اصل حقیقتوں سے آگاہ کیا
اور سنگین حالات برداشت کرکے عالم انسانیت کے لئے صبر واستقامت کی بنیادیں فراہم کیں(علامہ ساجد نقوی)
راولپنڈی/ اسلام آباد۔10 جولائی 2026 ء : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے چوتھے امام زین العابدین ؑ کے یوم شہادت (25 محرم الحرام 95 ھ) پر پیغام میں کہا ہے کہ امام زین العابدین ؑ واقعہ کربلاکے عینی شاہد ہیں آپ ؑ نے جس طرح واقعہ کربلا کے حقائق کو بیان فرمایا اور تبلیغ و ادعیہ کے ذریعہ واقعہ کربلا کی اصل حقیقتوں سے آگاہ کیاجس سے جاہل اور متعصب عناصر کے اُس پروپیگنڈہ کے اثرات رفع اوردفع ہوئے جوانہوں نے شکوک و شبہات کے ذریعے عوام کے اندر پھیلائے ہوئے تھے۔آپؑ نے اپنے کردار وعمل کے ذریعے یزیدیت کو بے نقاب کیا اور حسینیت کے خدوخال کو جس انداز میںواضح کیا وہ انداز باطل قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی ہرقوت کے لئے رہنما حیثیت رکھتا ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ امام زین العابدین ؑنے ولادت سے لے کر کربلا اور کربلا سے لے کر مدینہ میں شہادت تک انتہائی کٹھن اور سنگین حالات کوبرداشت کرکے عالم انسانیت کے لئے صبر واستقامت کی ایسی بنیادیں فراہم کیں جن سے ہر دور کا انسان استفادہ کررہا ہے اور حق پر قائم رہتے ہوئے مرنے کا حوصلہ پارہا ہے۔ امام زین العابدین ؑ نے زہد وتقویٰ اور روحانیت کے جو راستے متعین کئے اور ذہن و قلوب کو جلا بخشنے ، باطن میں روشنی پیدا کرنے، نفس امارہ کو شکست دینے اور خدا کے ساتھ لو لگانے کے لئے دعاﺅں کا جو ذخیرہ ”صحیفہ سجادیہ “ امت کو فراہم کیا ہے دور حاضر میںاس سے کما حقہ استفادہ کیا جائے تو دنیوی و اخروی نجات کا سامان فراہم ہو سکتا ہے۔ اپنی مناجات میںامام زین العابدین فرماتے ہیں ” خدا کی بارگاہ میں دو قطروں کے علاوہ اور کوئی محبوب نہیں ایک راہ خدا میں گرنے والا شہید کے خون کا قطرہ اور دوسرارات کی تاریکی میں خوف و تقرب الہی کے لئے گرنے والا آنسو کا قطرہ“۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام چہارم ؑ کو یہ امتیازی خصوصیت حاصل ہے کہ انہوں نے دعاﺅں اور مناجات کے ذریعے انسان کو اپنے خدا سے براہ راست مربوط و مخاطب ہونے کا سلیقہ سکھایا اور عبادات کے ذریعے اپنے نفس کو کنٹرول کرنے کی رسم ڈالی۔ آج اگر ہم ان مناجات کے ذریعے اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کریں تو ہمیں نہ صرف اپنے نفس پر کنٹرول حاصل ہوگا بلکہ ہم انسانوں کے دلوں پر حکمرانی کے راز سے بھی آشنا ہو جائیں گے اور صبر و حکمت کے ذریعے دنیا کو مسائل و مشکلات سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کر سکیں گے۔قائد ملت جعفریہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اس وقت انسانیت، یزیدی قوتوں کے حصار میں ہے یہ قوتیں عالم اسلام کی دینی ، علمی، ثقافتی، تہذیبی روایات اورآزادی و استقلال کو ختم اور وسائل کو تباہ کرنے کے درپے ہیں لہذا اس کٹھن دور اور سنگین مرحلے پر امام زین العابدین ؑ کے عطا کردہ اصول اور اساسی نقوش سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئے روپ میں آنے والی یزیدیت کو بے نقاب کیا جائے۔
حضرت امام زین العابدین ؑ کے یوم شہادت پر علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام
متعلقہ مضامین


