راولپنڈی/ اسلام آباد۔ 8ستمبر 2026 ء: قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ پیغمبرِ اکرم کے عزیز چچا اور امیرالمومنین حضرت علیؑ کے والدگرامی، حضرت ابوطالبؑ نے دینِ حق کی ترویج و اشاعت کی خاطر جس بے مثال جذبے کے ساتھ حضورکے دفاع و تحفظ کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر رکھی تھی، وہ تاریخِ انسانیت میں اپنی نظیر آپ ہے۔ بنو ہاشم کے ایک ذمہ دار ترین فرد کی حیثیت سے خانہ کعبہ کے کلید بردار کی حیثیت سے فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ، اعلانِ رسالت سے لے کر شعبِ ابی طالبؑ کے کٹھن ترین مراحل تک، آپؑ نے خاتم المرسلین کی سرپرستی و نگہبانی کا جو عظیم فریضہ سرانجام دیا، وہ تاریخ کے سنہری اوراق میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اُمّ المومنین حضرت خدیجة الکبریٰ ؑ اور جنابِ ابوطالبؑ کی رحلت کے سال کو نبی رحمت نے ”عام الحزن” قرار دیا اور اپنی اِن دو عزیز ترین ہستیوں کو اپنا محسن و مربی قرار دیتے ہوئے گہرے غم و اندوہ کا اظہار فرمایا۔علامہ ساجد علی نقوی نے یہ بات 26 ربیع الاول کو حضرت ابوطالبؑ کے یومِ وفات کے موقع پر اپنے پیغام میں کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعثتِ رسولِ اعظم سے قبل انسانیت جس ابتری، انحطاط اور اخلاقی زوال کا شکار تھی، انسانی معاشرہ جس خلفشار میں مبتلا تھا، اور قدم قدم پر جس طرح مفاسد نے ڈیرے ڈال رکھے تھے، اُس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ نفرتوں اور جنگوں نے انسانی جانوں کو بے وقعت کر رکھا تھا، تکریمِ خاتون اور حقوقِ دختر بے دردی سے پامال کیے جا رہے تھے، ہر شخص نے اپنی پسند اور خواہش کے مطابق خدا تراش رکھے تھے، اور اخلاقیات، صبر و برداشت کا نام و نشان تک باقی نہ تھا۔ خالق کے ساتھ مخلوق کا حقیقی رشتہ استوار ہونا تو دور کی بات، مخلوق کو خالقِ حقیقی کا سچا تعارف تک فراموش ہو چکا تھا۔اُنہوں نے کہا کہ ایسے پرآشوب دور اور تاریک ماحول میں حضورِ اکرم کی بعثت، عالمِ انسانیت کے لیے ایک عظیم خوشخبری اور دائمی نجات کی نوید ثابت ہوئی۔ دعوتِ حق کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لیے خاتم النبیین کے عم محترم حضرت ابوطالبؑ آگے بڑھے اور نبوت و رسالت کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے، ہر رکاوٹ کے سدِّباب کے لیے انتھک جدوجہد کی۔قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان نے زور دے کر کہا کہ پیغمبرِ اکرم کی حیاتِ طیبہ کے دوران حضرت ابوطالبؑ، اور آپؑ کی رحلت کے بعد اولادِ ابوطالبؑ نے دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کی خاطر جان و مال کی بے مثال قربانیاں پیش کیں اور رہتی دنیا تک انسانیت کے نام پیغامِ ہدایت پہنچایا۔ اُنہوں نے عالمِ اسلام اور عالمِ انسانیت کی رہبری و رہنمائی کے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے، جن پر عمل پیرا ہو کر ہر دور کی انسانیت اپنی نجات کا سامان فراہم کر سکتی ہے۔
حضرت ابو طالب ؑ نے اعلان رسالت سے لے کر شعب ابی طالب تک جو عظیم فریضہ انجام دیا وہ اپنی مثال آپ ہے : علامہ سیدساجد علی نقوی
متعلقہ مضامین


