شہروں کے عالمی دن پر غزہ ،بیروت،سری نگر کیوں نظر انداز؟ عالمی ضمیر کب جاگے گا؟ علامہ سید ساجد علی نقوی
”شہروں کی تجدید ، موزوں رہائش ”ماٹو ! اِدھر تباہی و بارود کی بو، کھلا دتضاد ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
راولپنڈی /اسلام آباد31 اکتوبر2026 : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں ” شہروں کی تجدید،سب کیلئے موزوں رہائش” کی کے ماٹو کیساتھ عالمی یوم منایا جارہاہے مگر غزہ سٹی جو کبھی جدیدشہروں میں شمار ہوتاتھا آج کھنڈرات میں بدل چکا،بیروت جو ترقی کے زینے عبور کررہا تھا آج بیرونی جارحیت کا شکار، سری نگر جسے عالمی سفارتکاری سے سیاحت تک منفرد مقام آج خوف و ہراس ، کئی دیگر شہر جو تاریخی لحاظ سے اہمیت کے حامل آج ان کابھی کوئی پرسان حال نہیں۔پاکستان میں لاہور ، کراچی سمیت بین الاقوامی شہروں کوایک طرف ماحولیاتی تبدیلیوں، سموگ کے خطرات تودوسری جانب امن وامان ، عوام کے جان ومال کا تحفظ کے مسائل کا سامنا، عام آدمی آج شہروں میں اشیائے ضروریہ کی سکت تک سے محروم ،بڑی آبادی بے گھر، بے روزگار تو ایسی صورت میں کیسے موزوں رہائش کا عنوان اپنی جگہ بنائیگا؟۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے شہروں کے بین الاقوامی دن پر اپنے پیغام میں جو ہر سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظوری کے بعد سے منایاجارہاہے اور اس سال اس کا تھیم ” شہروں کی تجدید ، موزوں رہائش” ہے، جس میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ شہروں کی آبادیوں کو مناسب دیکھ بھال اور دیگر رہائشی سہولتوں کی جانب بین الاقوامی ادارو ں اور ممالک کو متوجہ کیا گیاہے یہ ایک سماجی دن کے طور پر منایا جاتاہے جو خوش آئند ہے مگر دوسری جانب فلسطین، شام، لبنان، عراق ، ایران ، افغانستان ، کشمیر میں ہنستے بستے تاریخی شہر، جدید ترین ترقی یافتہ سٹرکچر ز کو نقصان پہنچایاگیا، ایسے اقدامات کئے گئے کہ انسانیت شرما جائے فقط غزہ کی مثال لیں تو اس ہنستے بستے شہر،اس کے انفراسٹرکچر، اسپتال، سکولز، مساجد، گرجا گھر ،میڈیا ہائوسز حتیٰ کے اقوام متحدہ کے دفاتر اور امدادی کیمپس کو بھی نشانہ بنایاگیا مگر افسوس اس تباہی کے بعد ایک پیچیدہ معاہدہ سامنے آیا جس پر جشن منایاگیا اور آج پھر غزہ میں بارود کی بو اور صدائے ماتم و احتجاج ہے، کیوں عالمی ضمیر غزہ کے بعد بیروت وغیرہ کیلئے بھی جاگے جہاں جنگ کے علاوہ انارکی، افراتفری پھیلانے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ اسلام آباد، کراچی، لاہور دنیا کے بین الاقوامی شہروں میں شمار ہوتے ہیں مگر دارالحکومت کے قدرتی حسن کو نہ صرف گہناہ دیاگیا بلکہ یہاں کے باسی بھی عدم تحفظ، نان شبینہ سے محروم ، بے روزگاری کیساتھ بڑی تعداد اپنی چھت سے محروم ، ایسے حالات میں ” شہروں کی تجدید، موزو ں رہائش ” کے ماٹو کیساتھ شہروں کا عالمی دن منایا جارہا ، فقط شہروں کے دن نہ منائے جائیں بلکہ شہروں ، شہریوں کے حقوق کوبھی مد نظر رکھا جائے۔
شہروں کے عالمی دن پر غزہ ،بیروت،سری نگر کیوں نظر انداز؟ عالمی ضمیر کب جاگے گا؟ علامہ سید ساجد علی نقوی
متعلقہ مضامین


