زمین کو امن و شانتی کا محور و مرکز بنانا ہوگا تاکہ انسانیت کا قتل نہ ہو، علامہ سید ساجد علی نقوی
یہ زمین بنائی رزق کے حصول،رہن سہن ، امن، سکون کی بہتری اورانسانوں کی پرورشش اوربہبود کیلئے ہے لیکن اس دور میں ظالم سامراج و صہیون نے زمین کا امن تہہ و بالا کر دیا
ہمیں یومِ دحو الارض اللہ کی رحمتوں کے نزول کے دن اظہار تشکر کرتے ہوئے عبادت اور توبہ کو اپنا وظیفہ بنانا چاہیے، یومِ دحو الارض پر بیان
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے25 ذی القعدہ یومِ دحو الارض کے موقع پر کہا کہ دحو الارض کا معنی زمین کا پھیلایا جانا، بچھایا جانا یا قابلِ سکونت بنایا جانا ہے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ابتدا میں پانی پر موجود زمین کو پھیلا کر انسانوں کی زندگی کے لیے موزوں بنایا۔ بعض تفاسیر و روایات کے مطابق خانہ کعبہ کے مقام سے زمین کے پھیلائو کا آغاز ہوا۔قرآنِ مجید میں لفظ دحا آیا ہے والارض بعد ذلک دحاہاور اس کے بعد زمین کو بچھایا/پھیلایا( سورة النازعات آیت 30)اس دن کے حوالے سے عبادات، روزہ، دعا اور نوافل کی فضیلت بھی روایات میں بیان ہوئی ہے، علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ خداوند کریم نے یہ زمین بنائی رزق کے حصول،رہن سہن، ، امن، سکون کی بہتری اور انسانوں کی پرور ش اوربہبود کیلئے لیکن اس دور میں ظالم سامراج و صہیون نے زمین کا امن تہہ و بالا کر دیا ، فساد فی الارض کے جرم کا ارتکاب بھی ، یہاںانسانیت کی تذلیل ، قتل و غارت ، انسانی حقوق کی پامالی و ظلم وجبر کی داستانیں ،سازشیں ،جنگیں ، مکینوں کی انکے آبائی علاقوں سے بے دخلی کی مثالوں سے دنیا بھر ی ہوئی جبکہ موجود دو ر میں غزہ ، لبنان ، ایران کی زمینوں پر تباہی پھیلائی گئی ، نسل کشی کی گئی یہ زمین اس مقصد کیلئے تخلیق نہیں کی گئی،علامہ ساجد نقوی نے آخر میں کہا کہ ہمیں اپنے رویوں کو بدلنا ہوگا زمیں کو امن و شانتی کا محور و مرکز بنانا ہوگا تاکہ انسانیت کا قتل نہ ہو ، اہمیں یومِ دحو الارض اللہ کی رحمتوں کے نزول کے دن اظہار تشکر کرتے ہوئے عبادت اور توبہ کو اپنا وظیفہ بنانا چاہیے تاکہ کائنات کی تخلیق میں غور و فکر کرنے کا بہترین موقع میسر ہو سکے۔
زمین کو امن و شانتی کا محور و مرکز بنانا ہوگا تاکہ انسانیت کا قتل نہ ہو، علامہ سید ساجد علی نقوی
متعلقہ مضامین


