بدھ, جون 24, 2026
ہومقائد کے مواقفحکومت وسیکورٹی ادارے عزاداروں کو تحفظ فراہم کریں، علامہ سید ساجد علی...

حکومت وسیکورٹی ادارے عزاداروں کو تحفظ فراہم کریں، علامہ سید ساجد علی نقوی

حکومت وسیکورٹی ادارے عزاداروں کو تحفظ فراہم کریں، علامہ سید ساجد علی نقوی
محرم الحرام کے مقدس ایام میں عزادارانِ امام حسین کو نشانہ بنانا ایک قابلِ مذمت اور ناقابلِ برداشت عمل ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان
واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، پارا چنار روڈ کھولا جائے، دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے
راولپنڈی /اسلام آباد 24 جون 2026ء : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ضلع ہنگو میں اہل تشیع آبادیوں پر ڈرونز اور میزائل سے حملوں،پاراچنار روڈ کی بندش اور گھوٹکی میں دو مختلف مقامات پر عزاداروں پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے عزاداروں کو تحفظ فراہم کریں ، ہنگو میں ہونے والے تشددکے واقعات حکومت اور سیکورٹی ا داروں کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت اور کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے،نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ امن دشمن عناصر اب ڈرونز اور میزائل کا استعمال کر رہے ہیںاور سیکورٹی ادارے بے بس اور لاچار نظر آرہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہنگو گنجانو کلے، ملک آباد اور سیدانو بانڈہ میں میزائل گرائے گئے جبکہ متعدد ڈرون حملے کئے گئے جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور عزاداریِ امام حسین کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی گئی۔ایسے بزدلانہ حملے نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ملک کے امن، مذہبی آزادی اور بین المسالک ہم آہنگی پر بھی حملہ ہیں۔ محرم الحرام کے مقدس ایام میں عزادارانِ امام حسین کو نشانہ بنانا ایک قابلِ مذمت اور ناقابلِ برداشت عمل ہے۔ اس واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، تشدد پسند عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔علامہ ساجد نقوی نے پاراچنار روڈ کی بندش پر کہا کہ ملک بھر سے بہت سے عزادار محرم منانے اپنے آبائی گھر پاراچنار جاتے ہیں اس موقع پر روڈ کی بندش بزدلانہ اقدام ہے شہریوں کو سفری سہولیات کی فراہمی اور شاہرات کو محفوظ بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے لہذا پارا چنار کی مرکزی شاہراہ کو فی الفور کھولا جائے ۔علاوہ ازیں قائد ملت جعفریہ نے کہاکہ ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباڑو میں عزاداروں پر حملہ آورں کو قانون کے شکنجہ میں جکڑتے ہوئے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو ۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین