بدھ, مئی 27, 2026
ہومقائد کے مواقفحضرت ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کی یہ لازوال قربانی اطاعت و...

حضرت ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کی یہ لازوال قربانی اطاعت و ایثار کا عملی اور حسین نمونہ ہے،علامہ سید ساجد علی نقوی

حضرت ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کی یہ لازوال قربانی اطاعت و ایثار کا عملی اور حسین نمونہ ہے،علامہ سید ساجد علی نقوی
عہد کرنا چاہیے کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل ؑ کی قربانی سے الہام اور سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے راہ متعین کریں گے ، قائد ملت جعفریہ
اگر ہر قربانی کے وقت اعلیٰ ہدف پیش نظر ہو تو قربانی قبول ہوتی ہے ورنہ یہی قربانی جان‘ مال‘ عزت اور وقت کا ضیاع تصور ہوسکتی ہے، عید الاضحی پر پیغام
راولپنڈی /اسلام آباد26 مئی 2026 : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے عیدالاضحی کے موقع پر قوم کو مبارک باد دیتے ہوئے اپنے پیغام میں کہاہے کہ اگر ہر قربانی کے وقت اعلیٰ ہدف پیش نظر ہو تو قربانی قبول ہوتی ہے اور اس کے فوائد و اثرات بھی ظاہر ہوتے ہیں ورنہ یہی قربانی جان‘ مال‘ عزت اور وقت کا ضیاع تصور ہوسکتی ہے۔ اگرچہ قربانی کا مظہر انسان کے فطری اور معاشرتی تقاضوں کے پیش نظر کوئی نہ کوئی رسم ہی ہوتی ہے لیکن یہ رسوم اصل ہدف نہیں ہوتیں بلکہ قربانی کے اہداف کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہیں لہذا قربانی اور اس جیسے دیگر صالح اعمال کو فقط رسموں تک محدود کردینے سے اصل ہدف اوجھل ہوجاتا ہے جس سے اس قربانی کی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی۔ علامہ ساجد نقوی کا کہنا ہے کہ اگرچہ عید الاضحی کے دن نماز کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس عظیم قربانی کی یاد میں جانور قربانی کرنے کی رسم بھی ادا کی جاتی ہے لیکن جانوروں کی قربانی تو محض ایک علامت ہے جس سے اس بات کا درس ملتا ہے کہ اگر خدا کی راہ میں ہمیں اپنی ہر قیمتی چیز کو قربان کرنا پڑے تو اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ اور گریز سے کام نہیں لیا جائے بلکہ اسے احکامات خداوندی کی پیروی اور خدا کے نظام کے استحکام کا ذریعہ سمجھ کر ادا کردیا جائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ حضرت ابراہیم ؑ و اسماعیل ؑ کی یہ لازوال قربانی انسانیت اور اسلام سے وابستہ لوگوں کے لئے اطاعت و ایثار کا عملی اور حسین نمونہ ہے تاکہ وہ اپنے مفادات‘ ذاتی خواہشات‘ غلطیوں‘ کوتاہیو ں اور خطاﺅں کو قربان کرنے کے بعد جانور کی قربانی کریں اور ان کے سامنے یہ نظریہ نہ ہو کہ خدا کے حضور ان کے قربان کردہ جانور کا گوشت پوست اور خون پہنچتا ہے بلکہ صدق و یقین سے یہ بات ان کے مدنظر ہونا چاہیے کہ قربانی تو ایک ذریعہ ہے لیکن اصل میں ان کا ہدف ان کی نیت‘ ان کا ایثار‘ خلوص اور جذبہ خدا کے حضور پیش ہوتا ہے لہذا انہیں عید الاضحی مناتے وقت اور قربانی کرتے وقت اس خاص امر کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ دور حاضر میں غزہ‘ فلسطین‘ کشمیر‘ ایران اور دیگر اسلامی خطوں میں استعمار و سامراج کا نشانہ بن کر قربانیاں پیش کرنے والوں کو یاد رکھتے ہوئے عید الاضحی کے نیک اور بابرکت موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم انبیاءکرام‘ ائمہ معصومین ؑ‘شہدائے اسلام کی قربانی سے بالخصوص حضرت ابراہیم و اسماعیل ؑ کی قربانی سے الہام اور سبق لیتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ایک راہ متعین کریں گے ۔ امت مسلمہ کے اتحاد اور ترقی میں رکاوٹ بننے والے عوامل‘ بحرانوں‘ چیلنجز اور مشکلات کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں گے۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین