جمعہ, جون 12, 2026
ہومقائد کے مواقفعام آدمی شدید معاشی مشکلات کا شکار، بجٹ عوامی مسائل کے مطابق...

عام آدمی شدید معاشی مشکلات کا شکار، بجٹ عوامی مسائل کے مطابق بنایا جائے، علامہ سید ساجدعلی نقوی

عام آدمی انتہائی مشکلات کا شکار، چائلڈ لیبر میں مسلسل اضافہ کی بنیادی وجہ استحصالی و غیرمنصفانہ معاشی سسٹم، علامہ سید ساجد علی نقوی
بچو ں سے مشقت معاشرتی برائیوں میں انتہائی بْر ا فعل، مستقبل کے معماروں کیلئے قانون سازی کے ساتھ ساتھ تربیت و تعلیم اور روشن مستقبل کیلئے اقدامات اٹھانا ہونگے، قائد ملت جعفریہ پاکستان کا چائلڈ لیبر ڈے و بجٹ 2026-27 پر تبصرہ

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں عام آدمی انتہائی مشکلات کا شکار ہے،بجٹ عام آدمی کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے مرتب کیا جانا لازم ، چائلڈ لیبر میں مسلسل اضافہ کی بنیادی وجہ استحصالی و غیر منصفانہ معاشی سسٹم، بچو ں سے مشقت معاشرتی برائیوں میں انتہائی برا فعل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بجٹ 2026-27ء کے حوالے سے تبصرہ اور 12بین الاقوامی چائلڈ لیبر ڈے پر اپنے پیغام میں کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ عام آدمی انتہائی مشکلات کا شکارہے، آئے روز مہنگائی اور پورا سال آنیوالے منی بجٹ نے عام شخص کی اقتصادیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جبکہ خطے کی کشیدہ صورتحال ، پٹرولیم مصنوعات میں مسلسل اضافے اور بجلی و گیس کے بلز ہوں یا ادویات سے انتہائی ضروریہ اشیائے خورونوش ان کی پہنچ عام آدمی سے دور ہوچکی ہے ایسی صورتحال میں بجٹ ان عوامی مشکلات دیکھتے ہوئے بنایا جانا لازم ہے، افسوس آج تک جتنے بجٹ پیش ہوئے وہ الفاظ کے گورکھ دھندے سے زیادہ کچھ نہیں تھے اور عام آدمی کو اس سے بے تعلق نہ صرف رکھاگیا بلکہ بجٹ کا نام سنتے ہی اور مسلسل بڑھتی مہنگائی سے اس پرسکتے کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ بچوں سے مشقت کا عالمی دن بھی بجٹ کے ایام میں آرہاہے ، بچوں سے مشقت معاشرتی برائیوں میں انتہائی برا فعل ہے، چائلڈ لیبر میں مسلسل اضافہ کی بنیادی وجہ یہی استحصالی و غیر منصفانہ معاشی نظام ہے ، اسلام کا حسن ہے کہ اس نے مرد و زن، بزرگ شہریوں کے ساتھ بچوں کے حقوق پربھی زور دینے کے ساتھ لائحہ عمل دیا ہے ، مستقبل کے معماروں کیلئے قانون سازی کے ساتھ ساتھ تربیت و تعلیم اور روشن مستقبل کیلئے اقدامات اٹھانا ہونگے، اقوام متحدہ کے گزشتہ سالوں کے اعدادو شمار کے مطابق اس وقت تک دنیا میں تقریباً 200 ملین سے زائد بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں۔انہوںنے کہاکہ اقوام متحدہ سمیت طاقت ور اداروں اور ملکو ں اس غیر مساویانہ معاشی تقسیم کا حل نکالنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین