ہفتہ, ستمبر 12, 2026
ہومقائد کے مواقفقائداعظم کا پاکستان 79 سال بعد بھی معاشی و داخلی استحکام اور...

قائداعظم کا پاکستان 79 سال بعد بھی معاشی و داخلی استحکام اور بنیادی حقوق کا منتظر ہے، علامہ سید ساجد علی نقوی

قائد کا پاکستان 7 دہائیوں بعد بھی معاشی و داخلی استحکام، بنیادی حقوق کا منتظر ،علامہ سید ساجد علی نقوی
بابائے قوم نے آزاد ی سے روشناس کرایا مگر عوام آج بھی آزاد مملکت کے ثمرات سے دور،
79 سال بعد بھی نظام پر انگشت نمائی ، تشویشناک امر، قائد ملت جعفریہ پاکستان
اسلام آباد11 ستمبر 2026ئ : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح جیسی غیرمعمولی ، نظریاتی اور دوراندیش شخصیات و قیادت صدیوں میں قوموں کو میسر آتی ہیں جن کی انتھک محنت، لگن اور انکے ساتھ پرجوش عوامی جدوجہد کے نتیجے میں آزاد، خود مختار مملکت مسلمانان برصغیر کو نصیب ہوئی، مگر 7 دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی پاکستان معاشی و داخلی استحکام اور عوام بنیادی حقوق کے منتظر ہیں، 79 سال بعد نظام پر انگشت نمائی تشویشناک امر ہے، اب اس ملک کو ٹھوس عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے بانی پاکستان محمد علی جناح کے 78 ویں یوم وفات پر اپنے خیالات کا اظہا رکرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ 11 ستمبر فقط بابائے قوم کا یوم وفات نہیں بلکہ یوم خود احتسابی ہے کہ اس عظیم ہستی سمیت بزرگو ں کی جانب سے جو امانت ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے پہنچی اس کے ساتھ کتنا انصاف کیا؟ریاست پاکستان فقط سرحدوں کی تقسیم نہیں بلکہ ایک مضبوط دوقومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی، لاکھوں لوگوں نے بڑی قربانیوں کیساتھ ہجرت کی ، دفاعی لحاظ سے ملک کو مضبوط ضرور کیاگیا مگر افسوس ناپائیدار پالیسیوں کے سبب بیرونی قرضوں کے جال میں ملک پھنسادیاگیا جس کے باعث آج 79 سال بعد خود مروجہ نظام پر انگشت نمائی تشویشناک امر ہے ، انگریز دور کے ظالمانہ قوانین کیساتھ بنیادی حقوق سے متصادم پالیسیاں ختم کرکے قانون کی حکمرانی اور میرٹ کا نظام رائج کیا جائے، نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں پر حقیقی قومی اتفاق رائے قائم کیا جائے تو ملک خداداد ترقی پذیر ممالک بلکہ قرض دار ممالک کی فہرست سے نکل کر ترقی کے راستے پر گامزن ہوسکے گا۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین