جمعہ, ستمبر 25, 2026
ہومایونٹسکانفرنس و بیاناتپرامن جوہری پروگرام والے ممالک پر پابندیاں عالمی دہرے معیار کا عکاس...

پرامن جوہری پروگرام والے ممالک پر پابندیاں عالمی دہرے معیار کا عکاس ہیں: علامہ سید ساجد علی نقوی


استکباری ظلم کی کھلی چھوٹ ، پرامن پروگرام والے ممالک پر پابندیاں ہی عالمی دہرے معیارکاعکاس، علامہ سید ساجد علی نقوی
 جوہری توانائی کا پرامن استعمال ہر ملک کا حق، خطرناک ہتھیار استعمال کرنیوالوں کو پابند کیا جائے، بین الاقوامی سمندری حدود کو جنگی جنون اور تسلط پسندی سے شدید خطرات، قائد ملت جعفریہ پاکستان کا عالمی ایام پر پیغام
راولپنڈی /اسلام آباد 24 ستمبر2026 : قائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں استکباریت، سامراجیت اور صہیونیت کے مظالم کو کھلی چھوٹ جبکہ پرامن ممالک پر پابندیاں ہی عالمی دہرے معیار کا عکاس ہیں، جوہری توانائی کا پرامن استعمال ہر ملک کا بنیادی حق، خطرناک ہتھیار استعمال کرنیوالوں کو پابندکیا جانا چاہیے تھا مگر افسوس پرامن پروگرام والے ممالک ممالک آج طرح طرح کی ظالمانہ پابندیوں اورحملوں کی زد میں ہیں، سمندری حدود کو جنگی جنون اور تسلط پسندی سے شدیدخطرات ہیں یہی ظالمانہ روش دنیا کونہ ختم ہونیوالی کی تباہی کی جانب دھکیل رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے عالمی بحری دنWorld Maritime Day  اور  جوہری تخفیف اسلحہ Nuclear Disarmament پر اپنے خصوصی پیغام میں کہاکہ عموماً عالمی بحری دن پر اس بات کا اعادہ کیا جاتاہے کہ  بین الاقوامی سمندری حدود کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا تاکہ پرامن عالمی تجارت، اقتصادی تعاون کیلئے نہ صرف سمندری راستے محفوظ رہ سکیں بلکہ پسماندہ ممالک بھی اپنی اقتصادیات بہتر بناسکیں مگر کچھ عرصہ سے جس جنگی جنون کا زمین کیساتھ سمندر سامنا کررہاہے اس نے عالمی اقتصادیات پر نہ صرف مضر اثرات مرتب کئے ہیں بلکہ یہ جنگی جنون اور تسلط پسندی دنیا کیلئے خطرناک ترین صورتحال اختیارکرتی جارہی ہے دوسری جانب جوہری تخفیف اسلحہ کا عالمی دن بھی ایسے وقت میں منایا جارہاہے جب ماضی میں خطرناک ہتھیاروں کا استعمال کرنیوالے استکباری و سامراجی ملک نے ہیروشیما ناگاساکی پر جوہری حملے کرکے تہذیبوں کو تباہ کیا اور آج ایک پرامن ملک کے پرامن جوہری مقاصدمیں نہ صرف حائل بلکہ بغل بچے صہیونی قابض ریاست کیساتھ مل کر حملہ آور ہوچکا ایک اور تہذیب کی تباہی کی دھمکیاں دے رہا ہے،اسرائیل ایٹمی پروگرام پر کوئی بات کرنے کیلئے تیار نہیں اسے کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جس سے عالمی دہرا معیار اور طاقت کا اندھا دھند استعمال کا اصول اور ذہنیت واضح ہوچکی ہے اور یہی دنیا کو نہ ختم ہونے والی تباہی کی جانب دھکیل رہی ہے اب بھی وقت ہے کہ عالم انسانیت خصوصاً اقوام متحدہ تخصیصی ایام کیساتھ ہوش کے ناخن لے اور دنیا کو نگلتی اس تباہی کے سامنے اپنے اثرو رسوخ کا بندباند ہے۔

متعلقہ مضامین
- Advertisment -
Google search engine

تازہ ترین