غزہ کا مظلوم خون آج طاقت کی علامت بن گیا، اقوام متحدہ بھی ظلم پر چپ نہ رہ سکا، علامہ سید ساجد علی نقوی
مسئلہ فلسطین کا دنیا پر اجاگر ہونا دراصل مظلوموں کی قربانیوں کا ثمر،شہداء کے خون کارنگ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
یہ غزہ کے مظلوموںکا خون رنگ لارہاہے کہ آج پوری دنیا مسئلہ فلسطین کی جانب نہ صرف متوجہ ہوئی بلکہ ہر عام شخص بھی آج اسرائیل کی مذمت کر رہا ہے
راولپنڈی /اسلام آباد 07اکتوبر 2026ء : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں غزہ کا مظلوم خون آج طاقت کی علامت بن گیا، اقوام متحدہ نہ چاہتے ہوئے بھی اب چپ نہ رہ سکا، غزہ کی سٹلائٹ تصاویر ظالم و قابض صہیون و استکبار کی قیامت خیز تباہی کا سب سے بڑا ثبوت ، استعمار نے جوخونخوار پودالگایا جس کی ظالم و ہشتگرد درخت کے طور پر سامراج نے آبیاری کی، ایک صدی گزرنے کے باوجود آج بھی مظلوم فلسطینی کے بنیادی، انسانی اور آئینی حق کیلئے جدوجہد میں مصروف ہیں، یہ غزہ کے مظلوموںکا خون رنگ لارہاہے کہ آج پوری دنیا مسئلہ فلسطین کی جانب نہ صرف متوجہ ہوئی بلکہ ہر عام شخص بھی آج اسرائیل کی مذمت او ر فلسطینی مظلوموں کو اپنے اپنے انداز میں خراج پیش کرتاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے غزہ جنگ کے 3 سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ 3 سال میں ظالم، جابر، قابض دہشت گرد ریاست نے جو ظلم کے پہاڑ فلسطین خصوصاً غزہ کے عوام پر ڈھائے اس ظلم و تشدد کی مثال دنیا میں کم ہی ملے گی مگر یہ ان مظلوموںکا خون ہے جو رنگ لارہاہے، یہ ان مظلوموں کی قربانیاں ہیں جن کی گواہیاں کبھی سٹلائٹ تصاویر کے سامنے منظر عام پر آتی ہیں، کبھی انسانی حقوق کیلئے کام کرنیوالے اداروںکی رپورٹس اور کبھی اقوام متحدہ کی تحقیقات میں سامنے آتی ہیں ،کبھی سینکڑوں میلوں پر پھیلے احتجاج کی صورت میں دنیا بھر میں عوام اور کبھی صمود فلوٹیلا جیسے عزم کیساتھ بغیر کسی رنگ و نسل و مذہب و مسلک کی تفریق کے مظلوموں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں جسمیں مزاحمتی تحریکوں کی بھر پور پشت پناہی اور مختلف جماعتوں اور فورمز کی بے دریغ حمایت کا بھی کردار ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ ارض فلسطین ایک صدی سے زائد عرصہ سے مختلف سازشوں، نام نہا د اعلامیوں، معاہدوں کی بھینٹ چڑھتی آئی ہے ۔ 1917ء میںمنظر عام پر آنیوالے اعلان بالفور (آرتھر جیمز بالفور سابق وزیراعظم برطانیہ، سیکرٹری خارجہ)سے یہ سازش کا سلسلہ شروع ہوا جو 14 مئی 1948ء کو اسرائیل جیسی ناجائز، قابض ، دہشت گرد ریاست کے طور پر منظر عام پر آیا جس کے بعد کئی اور نام نہاد معاہدے منظر عام پر آئے اور سلسلہ ابراہیم اکارڈ سے ہوتا ہوا ساماجی اعلامیہ پر پہنچا جو اسی اعلان بالفور کا تسلسل ہے ۔ انہوںنے مزید کہاکہ یہ واضح اور دوٹوک ہے کہ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ کوئی اور نہیں خود فلسطینی عوام اپنی نمائندہ تنظیموں، جماعتوں اور دوستوں کے ذریعے کرینگے۔آخرمیں انہوں نے ارض فلسطین، بیت المقدس کی آزادی کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنیوالے شہداء ، بے گھر ہونیوالے متاثرین اور جنگ سے متاثرہ افراد کیساتھ خصوصی ہمدردی اور دعائیہ کلمات کیساتھ کہاکہ فلسطینی عوام کی آئینی، قانونی، بنیادی حقوق کی اس جنگ میں اخلاقی، سیاسی، سفارتی مدد جاری رکھی جائے۔
غزہ کا مظلوم خون آج طاقت کی علامت بن گیا، اقوام متحدہ بھی ظلم پر چپ نہ رہ سکا، علامہ سید ساجد علی نقوی
متعلقہ مضامین


