امام رضا کے علم و حکمت سے لبریز ارشادات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ، علامہ سید ساجد علی نقوی
امام علی رضا انتہائی مشکل او ر نامساعد حالات میں منصب امامت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پیغمبرانہ مشن کی تکمیل کیلئے کوشاں رہے ،قائد ملت جعفریہ
امام رضا کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرکے ان کے اقوال و افعال کی تقلید کرتے ہوئے ہم اپنی زندگیوں کو دین اسلام کے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں،
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امام علی رضا کے یوم شہادت (17صفر المظفر 1148 ھ)کے موقع پر کہا ہے امام نے اپنے والد گرامی حضرت امام موسیٰ کاظم کی شہادت کے بعد انتہائی مشکل او ر نامساعد حالات میں منصب امامت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پیغمبرانہ مشن کی تکمیل کیلئے کوشاں رہے ۔امام رضا اپنے زمانہ میں سب سے اعلم اور افضل تھے ، علم و حکمت سے لبریز ارشادات، سماجیات ،سیاست،حکمرانی اور انسانی و فلاح و ترقی کے ہر میدان میں سنہری اقوال اور خاص طور پر ادیان عالم پر دین اسلام کی برتری اور اس جیسے امور میں رہنما اصول متلاشیان حق کیلئے مشعل راہ ہیں۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہاکہ معروف اسلامی مورخ الذھبی نے امام رضا کی مدح و ثنا کرتے ہوئے تحریر کیا کہ ”وہ امام ابوالحسن ہیں اور اپنے دور کے ہاشمیوں کے آقا و سردار ہیں وہ ان میں سے سب سے زیادہ شگفتہ اور متقی و پرہیزگار ہیں’ مامون نے ان کے اس احترام کے سبب انہیں جانشین مقرر کیا’ امام رضا کی مقام و مرتبے اور عظمت کے پیش نظر اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ حکمران امام کو امور مملکت میں شامل کرکے ان سے مشاورت و رہنمائی حاصل کریں چنانچہ امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں اس منصب کو قبول کرکے عالم اسلام اور انسانیت کی رہبری و ہدایت کی۔ امام ہشتم امام رضا کا مزار مقدس مشہد میں آج بھی مرجع خلائق ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ائمہ اطہار کی سیرت و کردار کو اپناکر دنیوی و اخروی نجات کا سامان فراہم کیا جاسکتا ہے اور امام رضا کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرکے ان کے اقوال و افعال کی پیروی کرتے ہوئے ہم اپنی زندگیوں کو دین اسلام کے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں۔


